خطبات محمود (جلد 30) — Page 356
* 1949 356 خطبات محمود مزید مکانات بنانا عقل کے خلاف ہے بلکہ اب تک جو کچھ ہوا ہے وہ بھی اب دل پر گراں گزر رہا ہے۔گو اس کے بغیر چارہ بھی کوئی نہ تھا۔پس ان حالات میں نظارتوں اور تحریک جدید کو چاہیے کہ وہ انہی کی مکانات سے فائدہ اُٹھا ئیں۔ہاں ایک خرچ ہم کو کرنا ہی پڑے گا اور وہ یہ کہ جلسہ کے لیے ہمیں بیر کیں تیار کرنی پڑیں گی۔جلسہ کے لیے یہ خرچ ہمیں بہر حال کرنا ہوگا۔ان بیرکوں پر پندرہ ہیں ہزار روپیہ خرچ آجائے گا۔ان بیرکوں میں دروازے نہیں لگائے جائیں گے۔گھاس کی چھت اور دروازوں پر چٹائیوں کے پردے ہوں گے۔ایک اینٹ کی دیوار چھ اور سات فٹ اونچی ہوگی۔جب یہ بیر کیس تیار ہوں جلسہ تک عملہ ان میں رہ سکتا ہے اور جلسہ کے بعد پھر ان میں جاسکتا ہے۔یہ ایسا خرچ ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں اور اس خرچ سے عملہ بھی فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔کہا جاسکتا ہے کہ پہلے مکان کیوں بنے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حالات کے لحاظ سے فیصلے بدلتے جاتے ہیں۔شروع میں ہم کو یہ خیال تھا کہ نہ معلوم کب تک جماعت بکھری رہے۔اس لیے عارضی مکانات شروع کر دیئے تا کہ جلد جلا وطنی کا زمانہ ختم ہو۔پھر اُس وقت اس مالی ابتلاء کا علم نہ تھا جو اب سامنے آ رہا ہے۔لیکن اب چونکہ مستقل عمارتیں بنے کا زمانہ قریب آرہا ہے اور مالی تنگی بڑھ گئی ہے اس لیے اب فیصلہ کے خلاف یہ فیصلہ کرنا پڑا ہے کہ آئندہ عمارات بند کی جائیں۔ذاتی امور میں بھی اسی طرح فیصلے بدلتے رہتے ہیں۔ایک وقت میں انسان کے پاس روپیہ ہوتا ہے، ایک دو بچے ہوتے ہیں وہ انہیں تعلیم دلوا لیتا ہے لیکن دوسرے وقت میں روپیہ پاس نہیں ہوتا اور وہ باقی بچوں کو تعلیم نہیں دلوا سکتا۔ابھی حال کا ذکر ہے میرے اپنے ایک لڑکے نے کہا میں انگریزی پڑھوں گا۔انگریزی پڑھنے کے بعد بھی تو دینی خدمت ہو سکتی ہے۔میں نے کہا میرے خیال میں عربی پڑھ کر ہی دینی خدمت ہوسکتی ہے۔اس نے کہا پھر فلاں فلاں بھائی کو انگریزی تعلیم آپ نے کیوں دلوائی ہے؟ میں نے کہا اُس وقت ہمارے پاس قادیان کی جائداد تھی اور میں خیال کرتا تھا کہ اگر یہ انگریزی تعلیم حاصل کر لیں گے تو کوئی حرج نہیں بعد میں انہیں دینی تعلیم دلوائی جاسکتی ہے۔لمبے وقت تک تعلیم دلوانے میں جو بوجھ پڑتا ہے وہ محسوس نہیں ہوتا تھا لیکن اب حالات اور ہیں۔اب میں یہ بوجھ نہیں برداشت کر سکتا۔اس لیے مجھے اپنا پہلا طریقہ بدلنا پڑا ہے۔خرچ کے گھٹانے کے بارہ میں ایک مضمون ہے۔اب میں دوسری بات شروع کرتا ہوں جو کسی قدر خرچ بڑھانے کے متعلق