خطبات محمود (جلد 30) — Page 347
* 1949 347 خطبات محمود۔راستہ میں بہت سی مشکلات نظر آ رہی ہیں۔ہماری اندرونی اور بیرونی تبلیغ بہت سست ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے غور کر کے سمجھا کہ اس کی زیادہ تر وجہ عورتوں میں اس آزادی اور بے دینی کا پیدا ہونا ہے جو ان میں مغرب کے اثر کی وجہ سے آگئی ہے۔ویسے تو اسلام نے بھی عورتوں کو آزادی دی ہے لیکن ان کی مغربی رنگ کی آزادی ان کے احمدیت قبول کرنے میں مانع ہے۔اور جب یہ آزادی عورت کے احمدیت قبول کرنے میں مانع ہوتی ہے تو ماں کے جو اولاد پیدا ہوتی ہے اسے بھی وہ احمدیت ، وہ کے قبول کرنے سے روکتی ہے۔اسی طرح وہ اپنے خاوند کو بھی احمدیت کے قبول کرنے سے روکے گی کیونکہ اگر وہ احمدیت قبول کرلے تو اس کی آزادی میں فرق آ جائے گا۔غرض عورتیں ہماری تبلیغ میں ہے روک بن رہی ہیں اور یہ حلقہ آہستہ آہستہ وسیع ہوتا جائے گا کیونکہ یہ تعلیم جب بڑے بڑے شہروں میں ہے پھیل جائے گی تو بڑے شہروں سے قصبات میں آجائے گی اور قصبات سے گاؤں میں آجائے گی اور بڑے گاؤں سے چھوٹے گاؤں میں پھیل جائے گی۔مردوں کی نسبت عورتیں احمدیت کی تبلیغ میں زیادہ روک بن رہی ہیں۔کوئٹہ میں ملٹری آفیسرز میں میں نے ایک لیکچر دیا۔جب وہ آفیسر ز اپنے گھروں میں واپسی گئے تو عورتوں نے بہت لے دے کی۔انہوں نے اپنے خاوندوں سے کہا تم احمدیوں کے جلسے میں کیوں گئے تھے؟ بعض لوگ احمدیت کے بالکل قریب تھے لیکن محض عورتوں کی مخالفت کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے۔ایک عورت نے اپنے خاوند کو جو ایک فوجی افسر تھے کہا کہ احمدی تو پردہ کی تعلیم دیتے ہیں، ایک سے زیادہ بیویوں سے شادی کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔اگر تم ان کی مجالس میں گئے تو میرا اور تمہارا گزارہ مشکل ہو جائے گا۔تعدد ازدواج، پردہ اور دوسری مختلف باتیں جو عورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں اور جن کو آجکل کی عورتیں پارہ پارہ کرنا چاہتی ہیں وہ احمدیت میں پائی جاتی ہیں اس لیے وہ احمدیت کی تبلیغ میں روک بن رہی ہیں اور روک بنتی چلی جاتی ہیں اور یہ روک دن بدن بڑھتی چلی جارہی والی ہے۔عورتیں سمجھتی ہیں کہ پردہ کی وجہ سے انہیں بلا وجہ گھروں میں بند رکھا جاتا ہے۔غیر مردوں سے ملنے سے روکا جاتا ہے۔کثرت ازدواج کی وجہ سے اُن کی بہتک کی جاتی ہے۔وہ سمجھتی ہیں کہ مشرقی پنجاب نے میں جو عظیم الشان نتباہی عورتوں پر آئی ہے وہ محض پردہ کی وجہ سے ہے۔مغربی لوگوں کو بھی مسلمانوں سے نفرت ہے کیونکہ مسلمان عورتیں پردہ کرتی ہیں لیکن جب وہ ہندوؤں کے پاس جاتے ہیں ان کی