خطبات محمود (جلد 30) — Page 330
* 1949 330 خطبات محمود توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ بعض حادثات کی وجہ سے اور بعض واقعات کی وجہ سے سلسلہ کی مالی حالت اس وقت اتنی گر گئی ہے کہ اگر جلد اس کا تدارک نہ ہوا تو شاید چند ماہ ہی میں ہمیں بہت سے محکمے بند کرنے کی پڑیں گے۔ہمارا بیت المال کا دفتر تو یہی دہراتا چلا جاتا ہے کہ ہندوستان کے چندوں کی کمی کی وجہ سے یہ واقعہ ہوا ہے مگر یہ محض اپنی غفلت اور سستی کے چھپانے کا ایک عذر ہے کیونکہ وہاں کے چندے جو اب بند ہیں پانچ چھ ہزار سے زائد کے نہیں۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ نو جوان جن کو میں کام کے لیے آگے لایا تھا اور جن کے متعلق میں سمجھتا تھا کہ وہ کام سنبھال لیں گے اور میں پرانے کارکنوں پر خفا تھا کہ کیوں وہ نوجوانوں کو آگے نہیں لاتے تاکہ وہ کام سیکھ سکیں۔اس غرض سے وہ نوجوان جو ہمارے مرکز میں آئے ہیں وہ کچھ اچھے ثابت نہیں ہوئے۔بجائے اس کے کہ وہ کام کرتے پہلے بزرگوں پر اعتراض کرنے اور ان سے لڑنے جھگڑنے میں ہی اپنا وقت صرف کر دیتے ہیں۔لیکن بیرونی مشنوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بعض اچھے اچھے کارکن نکل رہے ہیں اور بعض نے تو نہایت اعلیٰ درجہ کی قربانی کا نمونہ دکھایا ہے جو بتاتا ہے کہ جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو وقت پڑنے پر بغیر کسی مدد اور اعانت کے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لیے تیار ہیں۔اس بارہ میں سنہ سے اچھا نمونہ اس نوجوان نے دکھایا ہے جو سب سے کم تعلیم یافتہ ہے یعنی کرم الہی ظفر۔جب موجودہ مشکلات کی وجہ سے ہم نے بعض بیرونی مشنوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا اور کہ دیا کہ وہی لوگ کام جاری رکھیں جو اپنا بو جھ آپ اُٹھانے کے لیے تیار ہوں تو اُس وقت وہ مشن جن کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تے ان میں فرانس اور ہسپانیہ کے مشن بھی تھے۔ہمارے اس فیصلہ پر ان دونوں ممالک کے مشنریوں نے ہے درخواست کی کہ ہمارے مشن بند نہ کیے جائیں اخراجات بیشک بند کر دیئے جائیں، ہم اپنا بوجھ خود اُٹھا ئیں گے اور ان مشنوں کو جاری رکھیں گے۔چنانچہ ان دونوں مشنریوں کی دو سال کے عرصہ میں ہم نے کوئی مدد نہیں کی بلکہ پارٹیشن سے کچھ عرصہ پہلے کی بعض رقمیں بھی انہیں بھجوائی نہیں گئیں۔اگر اس عرصہ کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ اڑھائی یا پونے تین سال کا عرصہ بن جاتا ہے۔جہاں تک ہمت سے کی بیٹھے رہنے کا سوال ہے اس میں یہ دونوں برابر ہیں۔دونوں ہمت سے بیٹھے رہے اور تنگی ترشی سے گزارہ کی کرتے رہے۔لیکن جہاں تک تبلیغ کو فور سنبھال لینے کا سوال ہے اس میں کرم الہی صاحب ظفر مقدم ہیں۔کیونکہ ملک عطاء الرحمان صاحب جو لاہور کے ہی باشندے ہیں ایک لمبے عرصہ کے بعد تبلیغ کے