خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 290

* 1949 290 خطبات محمود خلیفہ وقت سے کالج میں کم سے کم دو چار لیکچر سالانہ کروائے جائیں تا کہ ان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہو اور قربانی کی روح ان کے اندر ترقی کرے۔اس کے علاوہ جماعت کے دوسرے علماء اور مبلغین سے بھی وقتا فوقتا لیکچر کروانے چاہیں تا کہ بار بار ان کے سامنے مختلف دینی مسائل آتے ہ رہیں اور ان کی اہمیت ان کے ذہن میں راسخ ہوتی چلی جائے۔خالی کتابیں پڑھا دینے سے دماغی تربیت نہیں ہوسکتی۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے اندر جرات، ہمت اور بہادری کا مادہ پیدا کیا جائے۔اور جرات کا مادہ ہمیشہ ایسے لوگوں کے ذریعہ ہی پیدا ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں کوئی ہے نمایاں کام کیا ہوا ہوتا ہے۔جب انسان ان کی باتیں سنتا ہے تو سمجھتا ہے کہ یہ صرف منہ کی باتیں نہیں ہے بلکہ ان کے ساتھ عمر بھر کا تجربہ بھی شامل ہے۔اس کے بعد وہ ضد کر کے بیٹھ جائے تو اور بات ہے ورنہ اگر اس کے دل میں ذرہ بھر بھی صداقت کا احساس ہو تو وہ خدا تعالیٰ کی محبت کا شکار ہوئے بغیر نہیں رہا سکتا۔مثلاً جب ایک شخص کہتا ہے کہ اگر میں دین کی خدمت کروں تو روٹی کہاں سے کھاؤں تو اس کا صحیح جواب وہی شخص دے سکتا ہے جس نے ساری عمر دین کی خدمت کی ہو، جس نے ساری عمر دنیا کا کوئی کام نہ کیا ہو اور پھر خدا تعالیٰ نے ہمیشہ اسے باعزت رزق دیا ہو۔جب ایسا شخص اس سے گفتگو کرے گا اور کہے گا کہ میں نے دین کی خدمت کی ہے اور ایسے حالات میں کی ہے کہ میرے لیے روٹی کا کوئی امکان نہیں تھا مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے روٹی دی تو اس کا حوصلہ بلند ہو جائے گا اور وہ سمجھے گا کہ اگر میں بھی دین کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دوں تو میں بھوکا نہیں مرسکتا۔اسی طرح جب ایسا شخص ان سے گفتگو کرے گا جس نے خدا تعالیٰ سے باتیں کی ہوں گی، جس کی تائید کے لیے اس نے معجزات و نشانات دکھائے ہوں گے ، جس پر اس کے فضل بارش کی طرح بر سے ہوں گے تو اس کی گفتگو کا جو نتیجہ ہوگا وہ ان لوگوں کی گفتگو سے بالکل مختلف ہوگا جن کے ساتھ خدا تعالیٰ کا کوئی معجزانہ سلوک نہیں ہوتا اور جو محض لوگوں کے قصے اور کہانیاں سنانے پر اکتفا کرتے ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص اگر یہ بیان کرے کہ احمدی غیر ممالک میں اس اس طرح قربانیاں کر رہے ہیں تو لوگوں پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا لیکن اگر امریکہ یا افریقہ سے کوئی شخص آکر اپنے مشاہدات کا ذکر کرے تو اس کا بالکل اور اثر ہوتا ہے اور لوگوں کے اندر ایک نئی زندگی پیدا ہو جاتی ہے اور ان کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں۔