خطبات محمود (جلد 30) — Page 268
$ 1949 268 خطبات محمود وہی انہیں پہنے کو دے، جس حالت میں وہ خو د ر ہے اُسی حالت میں انہیں بھی رکھے۔اگر تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں کرتا تو یہ تمہاری طرح خدا تعالیٰ کے بندے ہیں۔ان سے خدمت لینے کا تمہیں کوئی حق نہیں۔پھر فرمایا اے میرے صحابہ ! عورت پر بہت بڑا ظلم ہوتارہا ہے۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو اور ان کے حقوق ادا کرو۔10 ہمیں گزشتہ انبیاء کے متعلق یہ معلوم نہیں کہ وہ کیسے فوت ہوئے۔صرف حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے وقت کا پتا لگتا ہے۔جب آپ کو صلیب پر لٹکایا گیا تو اگر چہ وہ وفات کا وقت نہیں تھا۔آپ نے آنکھیں کھو لیں تو حضرت مریم کو رنجیدہ کھڑا دیکھا اور سمجھ لیا کہ وہ اپنے بیٹے کے مصلوب ہو جانے کے بعد اپنے ولی اور نگر ان کی عدم موجودگی پر افسوس کر رہی ہے۔آپ نے اپنے ہی حواری تھومس سے کہا گوجذبات کی وجہ سے آپ اپنا فقرہ مکمل نہ کر سکے کہ اے تھومس ! یہ ہے تمہاری ہے ماں اور اے عورت یہ ہے تمہارا بیٹا۔11 جس کے یہ معنے تھے کہ میں تھومس پر اعتبار کرتا ہوں اور اسے تمہارا بیٹا بناتا ہوں۔اور اسے تھومس ! میں تم پر اعتبار کرتا ہوں اور اسے تمہاری ماں بناتا ہوں۔یہ بڑا نیک جذبہ ہے۔مگر اُس شخص کی محبت اور بھی بالا ہے جو وفات کے وقت اپنے اعزہ و اقرباء کو بھول جائے اور غریب اور مظلوم کی ہمدردی میں اپنے آخری لمحے گزارے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ میری موت بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔موت کے وقت اگر کسی کا آپ نے خیال کیا تو وہ مظلوموں، مقہوروں، متروکوں اور اُن بے بس اور بے بس لوگوں کا تھا جن کی پرورش کرنے والا کوئی نہیں تھا۔پھر عین وفات کا وقت آتا ہے تو آپ کی زبان پر بار بار یہ کلمہ جاری ہوتا ہے۔خدا لعنت کرے یہود اور نصاری پر جنہوں نے اپنے بزرگوں کی قبروں کو عبادت گاہیں بنالیا 12 یہود اور نصلا می بھی موحد تھے۔مگر ان میں سے جو قبروں کو سجدہ کرتے ہیں انہیں آپ نے حقارت سے دیکھا اور اُن سے اظہار نفرت فرمایا۔اس فقرے کے معنے یہ تھے کہ اے مسلمانو! تم کسی کو رب العلمین نہ بنانا۔پھر جب موت کا وقت اور قریب آتا ہے اور آپ کی زبانِ مبارک بولنے سے عاجز آجاتی ہے تو اُس وقت آپ کی زبان پر جوالفاظ جاری ہوتے ہیں وہ یہ ہیں اِلی رَبِّيَ الْأَعْلَى إِلى رَبِّيَ الْأَعْلَى 13 میں اپنے رب کی طرف جارہا ہوں جو بڑی عظمت وشان رکھنے والا ہے۔بیشک آپ نے یہاں ربی کا لفظ استعمال کیا ہے مگر