خطبات محمود (جلد 30) — Page 259
* 1949 259 خطبات محمود لوگ خدا تعالیٰ کی مخلوق نہیں۔وہ یہ بھی خیال نہیں کرتے تھے کہ بنی اسرائیل کے علاوہ باقی مخلوق کا خدا، خدا نہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام یہی سمجھتے تھے کہ بنی اسرائیل کے علاوہ باقی مخلوق بھی خدا تعالی کی مخلوق ہے اور خدا بنی اسرائیل کے علاوہ دوسرے لوگوں کا بھی خدا ہے۔مگر باوجود اس کے موسوی نظریہ کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی یہی نظریہ پیش کیا کہ بنی اسرائیل خاص طور پر خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں اور خدا تعالیٰ خاص طور پر بنی اسرائیل کا باپ ہے باقی لوگ خدا تعالیٰ کے سوتیلے بیٹے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کا سوتیلا باپ ہے۔اس کے مقابل پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر چہ آپ ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئے جو تہذیب اور تمدن کے لحاظ سے بہت پیچھے تھاوہ باقی دنیا سے بہت کٹا ہوا تھا پہلی دفعہ یہ نظریہ پیش کیا کہ تمام قومیں خدا تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور خدا تعالیٰ تمام قوموں کا خدا ہے اور یکساں خدا ہے۔آپ نے فرمایا بیشک عرب قوم میری پہلی مخاطب ہے اور میں اسی میں پیدا ہوا ہوں مگر میں صرف اسی قوم کی بہبودی کے لیے مبعوث نہیں ہوا بلکہ بُعِثْتُ إِلَى الْاَسْوَدِ وَالْأَبْيَضِ وَالْأَحْمَرِ وَالاَصْفَرِ 2 میں تمام سیاہ ، سفید ، سُرخ اور زرد قوموں کی بہبودی کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں۔کوئی چینی ہو یا افریقن ، انگریز ہو یا امریکن، ہندوستانی ہو یا جاپانی ان ساروں کے لیے مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔پھر خدا تعالیٰ کے حکم سے آپ فرماتے ہیں وانَ مِنْ أُمَّةِ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ 3 يعنى یہ نہیں کہ میں نے اپنے زمانہ میں ہی یہ دعوی کیا ہے کہ میں ساری دنیا سے تعلق رکھتا ہوں اور میری زندگی اسی کی بہتری کے لیے صرف ہو رہی ہے بلکہ پہلے نبیوں پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں مجھے انہیں بھی دُور کرنا ہے۔گویا یہ چیز خدا تعالیٰ کو آج ہی نہیں سوجھی کہ سب مخلوق اسی کی ہے بلکہ پہلے بھی مختلف انبیاء مختلف قوموں کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کا سامان پیدا کرتا رہا ہے۔دراصل بنی اسرائیل کا یہ ایک محاورہ تھا کہ ہم خدا کے بیٹے ہیں۔ورنہ وہ یہی سمجھتے تھے کہ خدا سب کا خدا ہے۔نہ خدا تعالیٰ نے کسی وقت اپنے بندوں کو بھلایا اور نہ بندوں نے خدا تعالیٰ کی خدائی سے انکار کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ حض الزامات ہیں جو پہلے نبیوں پر عائد کیے گئے ہے ہیں۔ورنہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو رب العلمین کی صورت میں پیش کیا ہے۔مگر اس حقیقت کے باوجود اس امر سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حضرت موسی علیہ السلام زندہ رہے مگر بنی اسرائیل کے لیے،