خطبات محمود (جلد 30) — Page 258
* 1949 258 خطبات محمود کے مقابلہ میں ذلیل خیال کرتے تھے۔اسی طرح خواہ کوئی نقطہ نگاہ ہو جغرافیائی ہو یا تاریخی وہ دنیا میں مساوات کا رنگ تسلیم نہیں کرتے تھے۔بلکہ قومی برتری کا خیال آتے ہی وہ عرب کو دوسری قوموں سے بالا سمجھتے تھے۔اور جب سیاست کا سوال آتا تھا وہ رومن اور ایرانیوں کے درباروں میں جا کر رومی اور ایرانی بادشاہوں کو حضور کہنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔انہیں سیاسی تفاخر کے متعلق کوئی جس نہیں تھی۔وہ رومی اور ایرانی بادشاہوں کو بڑے فخر سے اپنا بادشاہ کہہ دیتے تھے کیونکہ جب درباروں میں جاتے تھے تو کچھ لینے کے لیے جاتے تھے۔غرض نہ وہ جغرافیائی حیثیت سے ایک دنیا کے قائل تھے اور نہ قومی لحاظ سے وہ ایک دنیا کے قائل تھے۔پھر جو لوگ رومن اور ایرانی درباروں میں جاتے تھے ان کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔بالعموم یہ لوگ وہ تھے جنہوں نے اپنے گھر کے اردگر دسو سو میل سے باہر قدم نہیں رکھا تھا۔ان کے مقابلہ میں بنی اسرائیل قوم ترقی یافتہ قوم تھی۔وہ مصر میں رہتے تھے اور ایسی قوم کے اقتدار میں رہتے تھے جن کی اپنی حکومت اور اقتدار تھا۔پھر مصر اُن دنوں سب سے زیادہ متمدن ملک تھا۔مصر کے جہاز یورپ، افریقہ اور ہندوستان وغیرہ دوسرے ممالک میں جاتے ہی تھے۔اس کی بیرونی ممالک سے تجارتیں تھیں اور مصری لوگ تجارتوں کے لیے باہر جاتے تھے اور دوسرے ممالک سے سیاسی اور تمدنی تعلقات رکھتے تھے۔غرض مصر میں رہنے والی قوم باقی دنیا کے حالات سے غافل نہیں رہ سکتی تھی۔مصری قوم اُس زمانہ میں بڑی متمدن قوم تھی اور اس کے باقی ممالک سے وسیع تعلقات تھے۔جیسے آجکل انگلستان ہے۔انگلستان سیاسی اور تمدنی طور پر اتنی ترقی کر چکا ہے کہ اس میں رہنے والا دنیا کے حالات سے غافل نہیں رہ سکتا۔افغانستان میں رہنے والا غافل رہ سکتا ہے کیونکہ تمدنی اور سیاسی ترقی میں وہ ابھی بہت پیچھے ہے۔یہی حالت عرب کی مصر کے مقابل میں تھی لیکن مصر میں رہتے ہوئے ، مصری اقتدار کے ماتحت رہتے ہوئے اور مصری تہذیب کے ساتھ تعلق رکھتے ہوئے حضرت موسی علیہ السلام نے اسرائیل کا خدا پیش کیا۔چنانچہ بار بار تو رات میں یہی آتا ہے کہ بنی اسرائیل کا خدا یوں کہتا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام جن کے زمانہ میں تمدن بہت پھیل چکا تھا، یورپ اور ایشیا آپس میں مخلوط ہو چکے تھے وہ بھی یہی کہتے رہے کہ میں بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کو اکٹھا کرنے کے لیے آیا ہوں۔باوجود دنیا میں اتحاد ہو جانے کے حضرت مسیح علیہ السلام قومی نظر سے اوپر نہیں جا سکے۔حضرت مسیح علیہ السلام بھی یہ خیال نہیں کرتے تھے کہ بنی اسرائیل کے علاوہ باقی