خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 256

* 1949 256 27 خطبات محمود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنی نوع انسان کی ہمدردی میں عدیم المثال قربانیاں (فرموده 26 اگست 1949ء بمقام پارک ہاؤس کوئٹہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت کی: قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 1 اس کے بعد فرمایا: اس آیت کے تین حصوں کو میں بیان کر چکا ہوں۔اب چوتھا حصہ رہ گیا ہے اور وہ مَمَاتِی“ ہے یعنی میری موت اللہ کے لیے ہے اور اُس اللہ کے لیے ہے جو رب العلمین یعنی سب جہانوں کی ربوبیت کرنے والا ہے۔موت کے معنے جسمانی موت کے بھی ہوتے ہیں اور موت کے معنے مصیبت اور دکھ کے بھی ہوتے ہیں اور موت کے معنے اُن حالات کے بھی ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی کی رضا حاصل کرنے کے لیے انسان اپنے اوپر خود وارد کر لیتا ہے۔اگر ہم موت کے یہ معنے کریں کہ وہ حالات جو میں اپنے اوپر وارد کرتا رہتا ہوں وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور اُس خدا کے لیے ہیں جو العلمین ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ دنیا میں تمام انبیاء ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنی قوم