خطبات محمود (جلد 30) — Page 248
خطبات محمود 248 $ 1949 غرض قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ميں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ میری تمام قربانیاں خدا تعالیٰ کے لیے ہیں۔میں اگر بیوی بچوں کی قدر کرتا ہوں، میں اگر والدین کی قدر کرتا ہوں، میں اگر قوم کی قدر کرتا ہوں، میں اگر اپنے محسنوں یا دوسرے لوگوں کے محسنوں اور بزرگوں کی قدر کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں جانتا ہے ہوں کہ وہ رحمت اور شفقت جو ان کے دلوں میں پائی جاتی ہے وہ میرے خدا نے ہی ان کے اندر رکھی ہے۔اور وہی بندوں سے حسن سلوک کرواتا ہے۔چیز تو وہی رہی۔ایک عام آدمی نے بھی قربانی کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قربانی کی مگر ایک عامی 8 شخص نے اپنی اغراض کے لیے قربانی کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خدا تعالیٰ کے مظاہر سمجھ کر ان کے لیے قربانی کی۔لوگ ماں باپ سے حسن سلوک کرتے ہیں تو ذاتی اغراض کے لیے کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی والدین تو فوت ہو چکے تھے لیکن دودھ پلانے والی ماں تو موجود تھی اور وہ ماں کی قائمقام تھی۔لوگ بچوں سے حسن سلوک کرتے ہیں تو ذاتی اغراض کے لیے کرتے ہیں۔لوگ دوستوں سے حسن سلوک کرتے ہیں تو ذاتی اغراض کے لیے کرتے ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں ان سب سے اس لیے حُسنِ سلوک کرتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کے مظاہر ہیں۔لوگ ماں کی محبت کو دیکھ کر اس کی خاطر قربانی کرتے ہیں مگر میں ماں کے لیے اس لیے قربانی کرتا ہوں کہ اس کے دل میں وہ محبت خدا تعالیٰ نے ہی رکھی ہے۔لوگ ماں کو ہی اصل محبت کا مستحق قرار دے لیتے ہیں۔دوستوں کو دیکھتے ہیں تو انہیں براہ راست محسن قرار دے لیتے ہیں اور اُن کے احسان کے بدلے اتارنا چاہتے ہیں لیکن میری سب قربانیاں خدا تعالیٰ کے لیے ہیں۔میں اپنے بھائیوں سے، اپنی قوم سے اور اپنے دوسرے رشتہ داروں سے اگر حسن سلوک کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے اندر محبت اور شفقت کا جذبہ خدا تعالیٰ نے ہی رکھا ہے۔غرض نَسِيكة کے معنوں میں یہ چیز شامل ہے کہ وہ قربانی ہو اور خالصہ اللہ ہو۔لیکن رب العلمین کے الفاظ ساتھ لگا کر اسے اور بھی مقید کر دیا گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کے ساتھ رب لعالمین