خطبات محمود (جلد 30) — Page 249
* 1949 249 خطبات محمود لگا کر اس کی وجہ بیان کر دی ہے کہ میری قربانی کیوں اللہ ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ رب العلمین ہے۔یعنی وہ تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔وہ ماؤں کو بھی پیدا کرنے والا ہے، وہ بچوں کو بھی پیدا کرنے والا ہے، وہ دوستوں کو بھی پیدا کرنے والا ہے۔سب چیزیں جو مجھے نظر آتی ہیں اُسی کی طرف کی سے ہیں۔ایک شخص اپنی ماں کی قربانیوں اور حسنِ سلوک کو دیکھتا ہے تو وہ وہاں ٹھہر جاتا ہے۔باپ کے حُسن سلوک کو دیکھتا ہے تو وہاں ٹھہر جاتا ہے۔دوستوں کے حُسنِ سلوک کو دیکھتا ہے تو وہاں ٹھہر جاتا ہے لیکن میں ہر چیز کے پیچھے خدا تعالیٰ کا ہاتھ دیکھتا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ وہی ان خدمات کا محرک ہے۔رحمت اور شفقت جو ان کے دلوں میں پائی جاتی ہے اُسی کی طرف سے ہے۔اسی نے دنیا کے ہر ذرہ سے مجھے فائدہ پہنچایا ہے۔مثلاً ٹھنڈا پانی ہے میں اسے پیتا ہوں اور اپنی پیاس بجھا تا ہوں۔پیاس کو بجھانا پانی کی ذاتی خصوصیت نہیں ہے۔اس کے اندر میرے خدا نے ہی یہ خوبی پیدا کی ہے۔اسی طرح دوسری چیزیں ہیں۔ان کے اندر بعض خصوصیتیں جو موجود ہیں وہ خدا تعالی کی ہی رکھی ہوئی ہیں۔میں ہر چیز کے پیچھے خدا تعالیٰ کا ہاتھ دیکھتا ہوں۔اصل محسن خدا تعالیٰ ہے اور یہ چیزیں ذرائع ہیں اور جب اصل محسن خدا تعالیٰ ہے تو پھر میں قربانی بھی اُسی کی خاطر کیوں نہ کروں۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کے ساتھ رب العلمین لگا کر یہ بتایا ہے کہ ہر چیز جو فائدہ مند ہے اس کے پیچھے خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔لوگ بے وقوفی اور نادانی سے اس چیز کو فی ذاتہ فائدہ مند سمجھ لیتے ہیں اور اس کی ھے قدر کرتے ہیں۔لیکن میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ رب العلمین ہے اور سب چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے۔پھر میں اس کے لیے قربانی کیوں نہ کروں۔گویا یہ الفاظ بڑھا کر آپ نے اپنے دعوی کے لیے وجہ جواز بیان کر دی ہے۔یہ بھی بتا دیا کہ میری سب قربانیاں خدا تعالیٰ کے لیے ہیں اور یہ بھی بتا دیا کہ ان قربانیوں کی وجہ کیا ہے۔کامل انسان وہ ہے جس کی سب قربانیاں خدا تعالیٰ کے لیے ہوں۔اس کی طرح وہ اپنے ظاہری محسنوں کا بھی شکریہ ادا کر دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کا بھی جو اصل محسن ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اپنے محسنوں کے لیے نہیں اپنے دشمنوں کے لیے بھی قربانیاں کی ہیں۔اور آپ نے قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ كبر