خطبات محمود (جلد 30) — Page 233
* 1949 233 خطبات محمود بلا واسطہ نہیں ہوتا۔پہلا واسطہ تعلق محبت کا ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی کے پاس اس لیے جاتا ہے کہ وہ کہیں ناراض نہ ہو جائے تو اُس کی نظر صرف غضب کی طرف ہوتی ہے لیکن جب وہ خدا کی خاطر جاتا ہے قطع نظر اس سے کہ وہ ناراض ہوگا یا نہیں تو اُس کا درجہ بلند ہوگا۔پھر اس کے آگے ایک اور مقام ہوتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پڑھنے والے کا تعلق خدا تعالیٰ سے خوف کا نہ ہو بلکہ اس کے انعامات حاصل کرنے کی غرض سے ہو۔لیکن یہ عبادت بھی ناقص ہے۔اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اگر اخروی زندگی نہ ہوتی اور خدا تعالیٰ انسان کو پیدا کر کے کہہ دیتا کہ تم میری عبادت کرو تو انسان کہتا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔مگر اب چونکہ خدا تعالیٰ کہتا ہے اخروی زندگی ہے اس لیے وہ اس کی عبادت کرتا ہے تا اس کے انعامات کو حاصل کرے۔یہ درجہ خوف کے درجہ سے بالا ہے اور اس میں انسان خدا تعالیٰ کے حسن کے زیادہ قریب پہنچ جاتا ہے مگر پھر بھی اس کی عبادت محض خدا تعالیٰ کی صفات سے کچھ حصہ لینے کے لیے ہوتی ہے۔گویا اس کا خدا تعالیٰ سے تعلق تو ہوتا ہے لیکن صرف اس کے افعال کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔اور جس شخص کا صرف افعال کے ساتھ تعلق ہوتا ہے وہ پورا عاشق نہیں کہلاتا۔قُلْ اِنَّ صَلَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ که رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی اس لیے عبادت نہیں کرتا کہ وہ محافظ ہے میری حفاظت کرے، وہ رازق ہے مجھے رزق دے، وہ واسع ہے مجھے وسعت عطا کرے یا غالب ہے مجھے غلبہ بخشے۔میں تو صرف اللہ کے حصول کی خاطر نماز پڑھتا ہوں۔وہ مجھے کچھ دے یا نہ دے مجھے اس سے کوئی واسطہ نہیں۔یہ انتہائی مقام ہے۔وہ شخص جو صرف خوف یا انعام کی وجہ سے نماز پڑھتا ہے جب اسے پتا لگے که اخروی زندگی محض ایک استعارہ ہے تو وہ نماز چھوڑ دے گا۔لیکن جو شخص محض اللہ نماز پڑھتا ہے جس کی عبادت محمدی عبادت کے ہمرنگ ہوگی وہ کہے گا میں نے تو جہنم کے ڈر سے یا جنت کے لالچ سے نماز پڑھی ہی نہیں۔خدا تعالیٰ مجھے جنت میں ڈالے یا جہنم میں میں اُس کی عبادت کرتا چلا جاؤں گا۔میرے سامنے یہ سوال ہی نہیں کہ وہ مجھے کہاں لے جاتا ہے۔مجھے تو وہ حسین نظر آتا ہے اور جب میں اُس کے سامنے جاتا ہوں تو اُس کا حسن باقی سب چیزوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔دیکھو! پھول اچھی چیز ہے ہے۔ایک شخص اس کے پاس جاتا ہے اور وہ اُسے حسین نظر آتا ہے۔اس کے ارد گرد کانٹے بھی ہوتے ہیں لیکن اُس کے حسن کو دیکھ کر وہ اُس پر ہاتھ ڈال دیتا ہے۔اُس کا ہاتھ زخمی ہو جاتا ہے مگر وہ پھول کی