خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 189

$1949 189 خطبات محمود ابتلاؤں سے خدا تعالیٰ کی غرض انسان کو روحانی گندوں سے صاف کرنا ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ یہ دونوں قسم کے ابتلا انسان پر آتے ہیں۔ایک ابتلا می مومن اپنے لیے خود تلاش کرتا ہے۔مثلاً سردیوں میں جب دوسرے لوگ سو رہے ہوتے ہیں تو وہ نماز کے لیے اُٹھتا ہے، ٹھنڈے پانی سے وضو کرتا ہے بلکہ بعض دفعہ ٹھنڈے پانی سے اسے غسل بھی کرنا پڑتا ہے یہ بھی ایک قسم کا ابتلا ہے جو مومن اپنے ہاتھ سے لاتا ہے۔اور جب مومن اپنے ہاتھ سے ابتلالا تا رہتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنا ابتلا چھوڑ دیتا ہے۔روزوں کے متعلق بھی خدا تعالیٰ نے یہی اصول مقرر فرمایا ہے۔بندہ جب خود ابتلا لے آتا ہے یعنی وہ اپنی کسی غلطی سے بیمار ہو جاتا ہے تو اُس وقت خدا تعالیٰ اُسے روزے معاف کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ بعد میں روزے رکھ لینا۔لیکن ان می حالات کے سوا سال بھر کے زہروں کو دُور کرنے کے لیے رمضان میں روزے رکھنا ایک مومن کے لیے نہایت ضروری ہے۔کیونکہ اگر زہر زیادہ ہو جائیں تو وہ اس کے لیے ہلاکت کا موجب ہوں گے۔جو شخص سال بھر میں رمضان کے روزے نہ رکھے اور دوسرے سال کے روزے آجائیں اُس کی کے اندر دو سال کا زہر پیدا ہو جائے گا اور اگر وہ تین سال کے روزے نہ رکھے تو اُس کے اندر تین کی سال کا زہر جمع ہو جائے گا جو اُس کے لیے یقیناً مُہلک ثابت ہوگا اور اس کے اندر ایسی سختی اور ای نابینائی پیدا ہو جائے گی کہ اگر خدا تعالیٰ بھی اس کے سامنے آئے تو وہ اسے نہیں پہچان سکے گا۔جیسے کسی شخص کی آنکھیں ماری جائیں تو وہ اپنے عزیزوں کو بھی خواہ وہ سامنے کھڑے ہوں نہیں پہچان سکتا۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم روزے رکھ کر خدا تعالیٰ پر احسان کرتے ہیں حالانکہ اس سے زیادہ بے وقوفی اور کوئی نہیں۔جو شخص ڈاکٹر کے فصد کھولنے پر یہ خیال کرے کہ اُس نے خون دے کر ڈاکٹر پر احسان کیا ہے یا ڈاکٹر اُسے جلاب دے اور وہ خیال کرے کہ اس نے جلاب لے کر ڈاکٹر پر احسان کیا ہے یا وہ اسے کونین کھلائے اور وہ خیال کرے کہ اس نے کونین کھا کر ڈاکٹر پر احسان کیا ہے۔اُس سے زیادہ احمق اور کون ہو گا۔علاج خواہ تلخ ہی کیوں نہ ہو وہ بہر حال معالج کا مریض پر احسان ہے۔اسی طرح نماز کے لیے خواہ ہمیں سردیوں میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا تھی پڑے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے۔کیونکہ اس سے روحانی زہروں کو دور کر کے خدا تعالیٰ کو دیکھنے کی قابلیت پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح رمضان میں جب کوئی بھوکا رہتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ پر