خطبات محمود (جلد 30) — Page 185
* 1949 185 خطبات محمود کرے گا اُسے قتل کر دیا جائے گا تو گو عشق کا دل کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور کوئی شخص دعوی کرے یا نہ کرے عاشق عاشق ہی ہوتا ہے۔لیکن اگر یہ اعلان ہو جائے کہ جو بھی عشق کا دعوی کرے گا اُس کا سر قلم کر دیا جائے گا تو سب سے پہلا شخص جو عشق کا دعوی کرے گا اور کہے گا کہ میں عاشق ہوں وہ میں ہوں گا۔حقیقت یہ ہے کہ عاشق اور مسلمان دو متضاد چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی ای چیز کے یہ دو نام ہیں۔مگر عاشق سے میری مراد ہوس پرست عاشق نہیں بلکہ ایک سچا اور کامل مسلمان مراد ہے۔پس ایک سچا عاشق اور مسلمان مصائب کو صرف برداشت ہی نہیں کرتا بلکہ مصائب طلب کرتا ہے۔مصائب سے بھا گنا منافق کا کام ہے۔مصائب کو برداشت کرنا صرف مسلمان کا خاصہ نہیں بلکہ ایک کافر بھی اس میں شریک ہو سکتا ہے۔لیکن مسلمان وہ ہے جو نہ صرف مصائب کو برداشت کرتا ہے بلکہ مصائب طلب کرتا رہتا ہے۔اگر کچھ دن اُس پر مصیبتیں نہیں آتیں تو وہ سمجھتا ہے کہ شاید میرا رب مجھ سے خفا ہو گیا ہے کہ اب وہ میرے ایمان کو دنیا پر ظاہر کرنے کی کوئی تدبیر نہیں کر رہا۔پس جماعت کو اپنے اندر یہ بات پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ قربانیاں اور ابتلا ہی ایک ایسی چیز ہیں جن سے اسلام کی ترقی وابستہ ہے۔ہمارا دعوی ہے کہ ہم اسلام کی ترقی کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے ہر فرد کے اندر جذبۂ قربانی و ایثار پیدا کریں۔ہم اپنی جماعت کے ہر فرد کے اندر مصائب کو برداشت کرنے کا مادہ پیدا کریں۔ہم اپنی جماعت کے ہر فرد کے اندر طلب قربانی اور طلب ابتلا کا جذبہ پیدا کریں کیونکہ اسی کے ذریعہ اسلام اور احمدیت نے ترقی کرنی ہے۔اگر ضرورت کے مطابق ہمارے اندر قربانی کی روح نہیں ہوگی تو گو ہو گا وہی جو خدا نے کہا ہے مگر جو شخص ان قربانیوں میں حصہ نہیں لے گا وہ اور اُس کا خاندان ان نعمتوں سے محروم رہ جائے گا جو اس دور کے ساتھ مخصوص ہیں۔الفضل 13 جولائی 1960 ء۔1 : طبقات ابن سعد جلد 4 صفحہ 182 مطبوعہ بیروت 1985ء 2 : ہدایا: ہدیہ کی جمع تحائف ( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 21 صفحہ 705 کراچی 2007ء) 3 : بخاری کتاب المناقب مناقب قريش