خطبات محمود (جلد 30) — Page 119
خطبات محمود 119 * 1949 نے کہا جب آدمی خوش ہوتا ہے تو وہ ہنسا کرتا ہے۔یہ نصیحت سُن کر لڑکا اپنے آقا کے ہاں گیا۔کچھ دنوں بعد ہی آقا کو ایک سفر پیش آ گیا۔وہ اس لڑکے کو بھی ساتھ لے گیا۔رستہ میں وہ ایک سرائے کی و میں ٹھہرے۔آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے ، تیز ہوائیں چل رہی تھیں، وہ سرائے کے اندرسو گئے۔ہوا ذرا تیز ہوئی اور بارش شروع ہوگئی۔آقا نے اپنے نوکر سے کہا ذرا اُٹھ کر دیا بجھا دو مجھے اندھیرے میں سونے کی عادت ہے۔نوکر نے کہا اگر آپ کو اندھیرے میں سونے کی عادت ہے تو مجھے روشنی میں سونے کی عادت ہے۔منہ پر لحاف ڈال لیں اور سو جائیں۔مالک نے اُسے بچہ سمجھ کر کوئی غصہ نہ کیا اور منہ پر لحاف ڈال لیا اور سو رہا۔تھوڑی دیر بعد شاید اسے گرمی محسوس ہوئی اور اس نے خیال کیا کہ باہر کھلی جگہ پر جا کر سوئے۔اس نے نوکر سے کہا ذرا اُٹھ کر معلوم کرو کہ آیا بارش ہو رہی ہے یا نہیں؟ نوکر نے کہا ہاں بارش ہو رہی ہے۔مالک نے کہا تم تو ہلے بھی نہیں تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ بارش ہو رہی ہے؟ نوکر نے کہا میرے پاس سے ایک بلی گزری تھی میں نے کی اُسے ہاتھ لگا کر دیکھا تو وہ گیلی تھی۔آقا اس حماقت پر پھر بھی چپ رہا۔تھوڑی دیر کے بعد ہوا تیز چلنے لگی۔اُس نے نوکر سے کہا ذرا دروازہ بند کر دو۔اب یہاں کوئی بہانہ نہیں بن سکتا تھا۔اُٹھے بغیر دروازہ کا بند کرنا ناممکن تھا اس لڑکے نے سوچ کر کہا حضور! پہلے دو کام میں نے کیسے ہیں یہ تیسرا کام آپ خود کر لیں۔آقا نوکر کی اس بیوقوفی پر ہنس پڑا۔وہ جھٹ کھڑا ہو گیا اور سلام کر کے کہا حضور! مجھے انعام دیجیے۔تم بھی اس قسم کے بہانے بنانے لگ جاؤ تو تم جتنا معذور بھی بننا چاہو بن سکتے ہولیکن کوئی عظمند یہ نہیں کہہ سکتا کہ اتنی بڑی جماعت جو یہاں بیٹھی ہے اور جس جماعت کے بعض حصے ایسے بھی ہیں جو اپنی اپنی جگہ پر نماز پڑھتے ہیں مثلاً مغلپورہ ، میاں میر وغیرہ میں الگ الگ نماز جمعہ ہوتی ہے اتنی بڑی جماعت عورتوں کا ایک مڈل سکول نہیں چلا سکتی۔یہ صرف نفس کا بہانہ ہے۔میرے خیال میں اگر عقل سے کام لیا جائے تو مفت میں مردانہ بھی اور زنانہ بھی دونوں ہائی اسکول چلائے جاسکتے ہیں۔صرف ایک سال تک تکلیف ہو گی۔اس کے بعد بغیر کسی بوجھ کے یہ کام کیا جاسکتا ہے۔یہ کہنا کہ ہمیں اب جگہ کہاں ملے گی؟ یہ جماعت کی غفلت کا نتیجہ ہے۔پیغامیوں۔ہوں نے