خطبات محمود (جلد 30) — Page 120
$ 1949 120 خطبات محمود فسادات کے بعد ایک سکول لے لیا تم نے کیوں کوشش نہ کی؟ باوجود اس کے کہ ان کے پاس پہلے سے ایک سکول موجود تھا انہوں نے دوسرا لے لیا۔اگر تم گورنمنٹ کے پاس جاتے اور کہتے ہمیں ہے ایک سکول دو تو ہمارے حق کو مقدم کیا جاتا کیونکہ گورنمنٹ پیغامیوں سے کہہ سکتی تھی کہ تمہارے پاس پہلے سے ایک سکول موجود ہے لیکن وہ تمہیں یہ بات نہیں کہہ سکتی تھی۔تم یہ کہہ سکتے تھے کہ ہمارے پاس پہلے کوئی سکول موجود نہیں ہمیں بھی ایک سکول دیا جائے تو یقینا تمہیں ایک سکول مل جاتا۔یہ تمہاری اپنی سستی ہے جس کی وجہ سے تمہیں جگہ نہیں مل رہی۔تمہیں اس چیز کا پہلے احساس نہیں تھا اس لیے تم نے اس کے لیے کوئی کوشش نہ کی۔کیا تمہیں سکھ آکر سکول بنا کر دے جائیں گے؟؟ تمہیں آریہ سماج والے سکول بنا کر دے جائیں گے؟ یہ کام تم نے خود کرنا ہے۔بہر حال لڑکیوں کا ایک مڈل سکول شروع کر دینا چاہیے تا ان کے اندر دین کی محبت کا احساس ہو۔اس کے بعد لڑکوں کا سکول بنایا جائے اور وہ بھی کم از کم مڈل تک ہو۔اگر ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی منت سماجت کرنی آجائے ، اگر تمہیں بھی اپنے افسروں کو خوش کرنا آجائے تو تم وہ کام کیوں نہ کر سکو جو دوسرے کر لیتے ہیں۔جو لوگ کام کرنے والے ہوتے ہیں وہ افسروں کی خوشامد میں بھی کر لیتے ہیں۔اور جو ی اُن کی خوشامد کرتا ہے اُسے وہ چیز دے دیتے ہیں جس کی وہ خواہش کرتا ہے۔لوگ ہندوؤں کی بھی خوشامد میں کر لیتے تھے، سکھوں کی بھی خوشامد میں کر لیتے تھے کبھی کسی کی پارٹی کر دی کسی سے میل جول ا رکھا اور اس طرح اپنا کام نکال لیا۔پیغامیوں کو بھی اسی طرح سکول ملا تھا۔انہوں نے محکمہ متعلقہ کے افسر کو پارٹی دی اور اس موقع پر اپنی درخواست پیش کر دی اور انہیں سکول مل گیا۔نیت ہو تو سب۔کچھ ہوسکتا ہے۔لا ہور کی جماعت کی اہمیت ایسی نہیں کہ وہ کام کے نہ کرنے کی نیت کرے بلکہ اس کی اہمیت ایسی ہے کہ اسے کام کرنے کی نیت کر لینی چاہیے۔اگر عورت کے اندر بیداری پیدا ہو گئی ہے، اگر اس کے اندر یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ جماعت کی بچیاں دین کی خادم ہوں اور اُن کی تی دینی تربیت اچھی طرح ہو تو مردوں کے اندر اس سے زیادہ احساس ہونا چاہیے۔ورنہ وہ خدا تعالیٰ کے مجرم ہوں گے۔میں دیکھتا ہوں ایسے ایک درجن کے قریب احمدی ہی لاہور میں ہیں کہ جو اپنے کاموں کی وجہ سے لوگوں پر اثر ڈال سکتے ہیں مگر یا تو وہ اپنے ہم عمروں میں بیٹھ کر گئیں مارتے