خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 114

* 1949 114 خطبات محمود آثار پیدا ہو چکے ہیں۔مثلاً 1947 ء میں جب ہم لاہور آئے اُس وقت یہاں عورتوں میں انتہائی ہے بے حسی پائی جاتی تھی۔لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کی طرف سے مستورات کو بار بار توجہ دلائی گئی لیکن ایسی عورتیں بہت کم تھیں جو لجنہ کے کاموں میں حصہ لیتی تھیں۔آہستہ آہستہ عورتوں کے اندر بیداری پیدا ہونی شروع ہوئی اور اس جلسہ پر گولا ہور سے جانے والی عورتوں میں ایک حصہ قادیان سے آئی ہوئی عورتوں کا بھی تھا لیکن ان میں سے اکثر عورتیں لاہور کی تھیں جو نہ صرف کثیر تعداد میں جلسہ پر گئیں بلکہ چندہ کر کے بہت سا سامان بھی خرید کر اپنے ساتھ ربوہ لے گئیں جس کی وجہ سے عورتوں کی مہمان نوازی میں ایک حد تک سہولت پیدا ہوگئی۔درجنوں عورتیں لاہور سے مہمانوں کی خدمت کے لیے ربوہ گئیں۔قادیان میں وہ مہمان بن کر جایا کرتی تھیں لیکن اس جلسہ پر وہ میزبان بن کر گئیں۔اور ان میں سے بعض نے نہایت اخلاص کے ساتھ مہمانوں کی خدمت میں حصہ لیا اور نیک نمونہ دکھایا۔یہ بات بتاتی ہے کہ لاہور کی جماعت کی عورتوں میں ایک حد تک بیداری پیدا ہو چکی ہے اور اگر یہ حالت قائم رہے تو اس کا اثر یقیناً آئندہ نسلوں پر بھی پڑے گا۔مردوں میں بھی کچھ کی حصہ میں یقیناً بیداری پیدا ہوئی ہو گی لیکن اس کی کوئی معین صورت میرے سامنے نہیں آئی لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ ان کی کافی تعداد اس سال جلسہ میں شامل ہوئی۔مردوں کی کوئی الگ، میرے پاس نہیں آئی لیکن عورتوں کی جو تعداد جلسہ پر حاضر تھی اُس کا اگر قیاس کر لیا جائے تو جلسہ پر جانے والے مرد بھی بہت زیادہ ہوں گے۔اور اگر یہ قیاس درست ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کے ایک حصہ میں بھی بیداری کے آثار پیدا ہو چکے ہیں۔لاہور کی جماعت کو ایک اہمیت حاصل ہے اور وہ اہمیت یہ ہے کہ لاہور ایک تو بارڈر (Border) پر واقع ہے۔دوسرے پاکستان کے ایک جنگی صوبہ کا صدر مقام ہے جو پاکستان کی حفاظت کے لیے آئندہ زمانہ میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکتا ہے۔بے شک یہ صوبہ اپنی نالائقیوں کی وجہ سے سیاست کے میدان میں بہت پیچھے رہ گیا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اس کے اندر جو اندرونی طاقتیں موجود ہیں اور جو صلاحیتیں اسے حاصل ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے ظاہر ہے کہ اس کی یہ حالت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔جلد یا بدیر پنجاب اپنے مقام کو پالے گا اور جلد یا بدیر پاکستان کے لوگوں کو پنجاب کی دوسرے علاقوں پر برتری تسلیم کرنی پڑے گی۔اور اگر