خطبات محمود (جلد 30) — Page 102
* 1949 102 خطبات محمود کچھ لوگ احمد نگر ٹھہر گئے اور اس طرح گزارہ ہو گیا۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے باوجود مخالف حالات اور مختلف تکالیف اور مشکلات کے خدا تعالیٰ کی وہ خبر جس کو میں پہلے تعبیری طور پر سمجھتا تھا عملی طور پر بھی ثابت ہوگئی۔اور وہی لوگ جو خیال کرتے تھے کہ اس سال جلسہ سالانہ نہیں ہو سکے گا انہیں بھی اقرار کرنا پڑا کہ اس جگہ رہائش کرنے کی وجہ سے لوگوں کی صحت پر بُرا اثر نہیں پڑا بلکہ اچھا اثر ہی پڑا ہے۔اندھیریاں سارا دن چلتی رہتی تھیں اور گرد سارا دن آنکھوں میں پڑتی تھی لیکن لاہور میں میری آنکھوں کا یہ حال تھا کہ مجھے آنکھوں میں اتنی تکلیف تھی کہ مجھے کئی بار دوائی لگوانی پڑتی تھی۔درد کی وجہ سے مجھے قحبہ ہو گیا تھا ہے کہ کہیں کوئی بیماری ہی نہ ہو۔دن میں چار پانچ دفعہ مجھے لوشن ڈلوانا پڑتا تھا تب جا کر کہیں میری حالت قابل برداشت ہوتی تھی لیکن ربوہ میں تو دن کے قیام میں مجھے صرف دو دفعہ لوشن ڈلوانا پڑا تھی اور پہلے سے میری آنکھیں اچھی معلوم ہوتی تھیں۔حالانکہ سارا دن مٹی آنکھوں میں پڑتی رہتی تھی۔اسی طرح وہاں کے پانی کے متعلق ڈاکٹری رپورٹ یہ تھی کہ وہ زہریلا ہے اور انسان کے پینے کے نا قابل ہے۔لیکن ہم نے دیکھا کہ بجائے اس کے کہ وہ پانی ہم پر کوئی بُرا اثر ڈالے اچھا اثر ڈالتا رہا۔وہ بدمزہ ضرور تھا۔ایک دن ایسا ہوا کہ میں نے مقابلہ میں پانی پی لیا یعنی دوسرا اور پانی میں نے پہلے پی لیا اور پھر وہاں سے نلکوں کا پانی پی لیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ قریباً سوا گھنٹے تک منہ کا ذائقہ خراب رہا۔لیکن باوجود اس کے کہ ڈاکٹری رپورٹ اس پانی کے متعلق یہ تھی کہ وہ انسان کے پینے کے قابل نہیں اُس پانی نے بجائے تکلیف پہنچانے کے ہمیں فائدہ پہنچایا۔جب میں لاہور سے گیا میرے معدہ میں سخت تکلیف تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے میری انتڑیوں پر فالج گر رہا ہے لیکن وہاں میری طبیعت اچھی ہوگئی۔اجابت بھی اچھی ہوتی رہی صرف آخری دن اسہال آنے شروع ہو گئے اور بیس کے قریب اسہال آئے لیکن باقی دنوں میں میری طبیعت اچھی رہی۔میری بیوی ام ناصر نے بتایا کہ یہاں لا ہور میں میں ایک وقت کھانا کھایا کرتی تھی لیکن ربوہ میں دونوں وقت کھانا کھاتی رہی۔آج لاہور واپس آکر پھر ایک دفعہ کھانا کھا رہی ہوں۔اسی طرح کئی اور دوستوں نے بتایا کہ ربوہ کے پانی نے اُن کی صحتوں پر اچھا اثر ڈالا ہے اور باوجود گردوغبار اڑنے کے اُن کی آنکھوں کو آرام آگیا۔میں نے دیکھا ہے کہ یہاں واپس آکر میری آنکھوں میں پھر تکلیف شروع ہو گئی۔