خطبات محمود (جلد 30) — Page 103
* 1949 103 خطبات محمود یہاں آکر میں دو تین دفعہ دوائی ڈلوا چکا ہوں۔غرض خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ایسے سامان کر دیے کہ بجائے اس کے کہ اچھا ی کھانا نہ ملنے کی وجہ سے ہماری صحت پر کوئی بُرا اثر پڑتا ہماری صحت پر اچھا اثر پڑا۔بجائے اس کے کہ وہاں پانی اچھا نہ ملنے کی وجہ سے ہماری صحتوں پر بُرا اثر پڑتا ربوہ کے پانی نے ہماری صحتوں پر اچھا اثر ڈالا۔بجائے اس کے کہ گردوغبار اڑنے کی وجہ سے ہماری آنکھیں خراب ہوتیں ہماری آنکھیں پہلے سے بھی اچھی ہو گئیں۔وہاں کے قیام میں آنکھوں میں اتنی گرد پڑی کہ اگر سال بھر کی گرد کو جمع کیا جائے تو اتنی نہ ہو گی لیکن اُس گرد و غبار نے ہماری آنکھوں کو اور بھی منور کر دیا۔اسی طرح روٹیوں اور سالن کے مہیا کرنے میں بہت سی مشکلات تھیں لیکن وہی روٹیاں جو کچھی ہوتی ہے تھیں بجائے اس کے کہ ہمارے معدوں کو خراب کرتیں اُن کے کھانے سے ہمارے معدوں میں اور زیادہ طاقت محسوس ہونے لگ گئی۔پھر علاقہ نیا تھا اور اس وجہ سے بھی بعض وقتوں کا احتمال تھا مگر اس میں بھی خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہوا اور وہاں تبلیغ کثرت سے ہوئی۔قادیان کے جلسوں پر ضلع جھنگ کے صرف چالیس پینتالیس آدمی آیا کرتے تھے لیکن اس جلسہ پر سب سے زیادہ آنے والے جھنگ کے لوگ تھے۔لجنہ اماءاللہ نے عورتوں کی تعداد کے متعلق ضلع وار رپورٹ دی۔اس کے مطابق جلسے پر آنے والی ایک سو پندرہ عورتیں ایسی تھیں جو ضلع جھنگ سے آئی تھیں۔چونکہ ہم نئے نئے وہاں گئے تھے اردگرد کے لوگوں نے ہمارے متعلق باتیں سنیں تو وہ جلسہ پر آگئے۔اس طرح تبلیغ کے لیے ایک اور رستہ نکل آیا۔میرے ایک عزیز لالیاں میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ربوہ میں چونکہ رہائش کا خاص انتظام نہیں تھا اس لیے وہ لالیاں ٹھہر گئے اور ڈاک بنگلہ ریز رو کروالیا۔انہوں نے مجھے بتایا کہ جب اسٹیشن پر رخصت ہونے لگے تو ایک پٹھان شور مچا رہا تھا۔وہ پٹھان قادیان نہیں آیا تھا لیکن ربوہ کا جلسہ اُس نے دیکھا تھا۔چونکہ یہ لوگ اسلامی ممالک کے قریب رہتے ہیں اس لیے اسلامی باتوں کا ان کے دلوں پر اچھا اثر ہوتا ہے۔اُس عزیز نے بتایا کہ وہ پٹھان شور مچا رہا تھا کہ ایسا جلسہ ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا اور نہ ایسی تقریر ہم نے پہلے سنی ہے۔اُس کے پاس کوئی مولوی طرز کا ایک آدمی کھڑا تھا اُس نے کہا یہ لوگ تو کافر ہیں، ان کا جلسہ کیا اور ان کی تقریریں کیسی؟ اُس نے کہا وہ کافر وہ