خطبات محمود (جلد 30) — Page 78
$ 1949 78 خطبات محمود کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ورنہ تم حقیقی مالدار نہیں ہو۔تم کیوں حقیقی مالدار نہیں ہو؟ اس کی وہی دلیل ہے جو میں نے دی ہے کہ اگر تم ظاہری طور پر دولت مند ہوتے ہوتو اس کے معنے صرف اتنے ہوتے ہیں کہ تم دولت کے محتاج ہو اور وہ دولت تمہاری ضرورتوں کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔واللہ هُوَ الْغَنِيُّ دراصل اللہ تعالیٰ ہی دولت مند ہے کیونکہ تمہیں تو دولت کی احتیاج ہے لیکن وہ کسی چیز کا محتاج نہیں اور جو شخص کسی چیز کا محتاج ہے وہ تو دولت مند نہیں کہلا سکتا۔دولت مند وہی ہوسکتا۔جس کو کوئی احتیاج نہ ہو، جس کو کسی چیز کی حاجت نہ ہو وہی اصل دولت مند ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے باقی لوگ دولت مند نہیں ہو سکتے۔ایک شخص جس کے پاس بہت سی دولت ہو بسا اوقات وہی دولت اسے کاٹ رہی ہوتی ہے۔اسی دولت کی موجودگی میں مالداروں کو قتل کیا جاتا ہے ہے ہے، انہیں لوٹا جاتا ہے، دنیا میں فساد برپا ہوتا ہے، بغاوتیں ہوتی ہیں۔پھر بسا اوقات یہی دولت امیروں کی اولادوں کو آوارہ بنا دیتی ہے، حرام خور بنا دیتی ہے، بدکار بنا دیتی ہے۔یہ سب خرابیاں ہے مال کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔لیکن اگر کوئی شخص بغیر پانی پیئے اور بغیر کھانا کھائے اور بغیر کپڑا پہننے کے کام چلا سکتا ہو تو اصل دولت مند وہی کہلائے گا۔احتیاج کا پورا ہونا دولت نہیں اس کا نہ ہونا دولت ہے۔دولت کے تم یہی معنے لیتے ہو کہ تمہاری احتیاج پوری ہو گئی۔مگر کوئی وقت ایسا بھی کی آجاتا ہے جب یہ تمہاری احتیاج کو پورا نہیں کرتی۔وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ اصل دولت مند الله تعالى ہے اس لیے کہ اُسے احتیاج ہی نہیں بلکہ الحمید وہ حمید ہے۔صرف یہی نہیں کہ اسے کسی چیز کی چی احتیاج نہیں بلکہ وہ تمہاری احتیاج کو پورا کرتا ہے۔تم اس کی تعریف کرتے ہو۔وہ شخص جو کسی کی مدد کرتا ہے، جو کسی کی مصیبت کو دور کرتا ہے لوگ اُسے کہتے ہیں شکریہ ! یا جب کوئی شخص کھانے کو دے دے یا پہنے کو کپڑا دے دے تو دوسرا شخص کہتا ہے شکریہ، مہربانی، عنایت اللہ تعالیٰ بھی حمید ہے کیونکہ جو احسان کرے لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہمیں کسی چیز کی احتیاج نہیں بلکہ ہم تمہاری احتیاج کو دور کرتے ہیں اس لیے حقیقی دولت ہمارے پاس ہے کیونکہ جسے کسی چیز کی احتیاج نہیں ہوتی وہی نقائص سے پاک سمجھا جاتا ہے اور دولت کی طرف توجہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ کمزور اور ناقص ہے۔آخر انسان یہ کیوں چاہتا ہے کہ میرے پاس دولت ہو۔اسی لیے کہ وہ کہتا ہے کہ میں کھاؤں، میں پیوں ، میں مکان بناؤں لیکن ” میں کھاؤں گا“ کے معنے