خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 403

* 1949 403 خطبات محمود دوسرے شخص کی ضرورت ہو۔میں جب سے یہاں آیا ہوں اور خطبہ کے لیے مسجد میں آتا ہوں میرانی مسجد میں آنے کا رستہ اور تھا لیکن اب شاید کسی نیک بخت نے اس طرف توجہ دلانے کے لیے میرا رستہ وہاں بنادیا جہاں سے عورتوں کی پیٹھیں نظر آتی ہیں۔شاید اُس کی غرض یہ تھی کہ مجھے یہ چیز نظر آ جائے۔سودہ مجھے نظر آ گئی۔مجھے تعجب آتا ہے کہ بعض باتیں معمولی ہوتی ہیں لیکن بغیر توجہ دلائے خود کیوں ان پر عمل نہیں ہوتا۔بھلا اس پر خرچ کتنا آتا ہے۔فرض کرو کہ قئنات ایک گز پانچ روپے کو آتی ہے۔یہ جگہ زیادہ سے زیادہ دس گز لمبی ہے۔اس دس گزقتات پر پچاس روپے لگیں گے۔جہاں دوسرے کاموں پر لاکھوں روپیہ خرچ ہوتا ہے وہاں اس نہایت اہم کام کے لیے پچاس روپے خرچ آ گیا تو کیا اندھیر ہے۔میں نہیں جانتا کہ تمہارا اگلا خلیفہ کیا کرے گا۔مگر میں نے تو تمہارا روپیہ بے دردی کے ساتھ بہایا ہے اور میں اس پر نادم نہیں ہوں۔اس بارہ میں میں ان لوگوں کے اعتراضوں سے نہیں ڈرتا جو جماعت میں شامل نہیں اور جن کا وہ روپیہ نہیں۔بلکہ میں ان سے بھی نہیں ڈرتا جن کا وہ روپیہ ہے۔اگر وہ اعتراض کریں گے تو میں کہوں گا تم کوئی ایسا خلیفہ ڈھونڈ لو جو تمہارا روپیہ سنبھال کر رکھے۔میں تو خرچ کی کرنا جانتا ہوں۔میں اپنے پاس سے بھی حسب توفیق خرچ کرتا ہوں اور دوسروں سے بڑھ کر کرتا ہوں۔اس لیے معترض کی زبان بند ہو جاتی ہے۔پھر وہ مجھ پر بیوقوفی کا الزام بھی نہیں لگا سکتا۔جبکہ نتیجے اچھے نکلتے ہیں۔ربوہ کی تعمیر کو ہی دیکھ لوقریباً سوا تین لاکھ روپیہ خرچ ہو چکا ہے اور ابھی ہم بڑے ہٹر (Huts) میں رہتے ہیں۔میری جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید اسے ایسا کرنے کی جرات نہ ہوتی لیکن میں نے روپیہ بے دردی سے خرچ کیا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس کے بغیر لوگ کسی جگہ نہیں آباد ہو سکتے۔اس کے بغیر کوئی قصبہ نہیں بن سکتا، اس کے بغیر کوئی شہر نہیں بن سکتا، اس کے بغیر کوئی صوبہ نہیں کی بن سکتا ، اس کے بغیر پاکستان بھی مضبوط نہیں ہوسکتا بلکہ میں جانتا ہوں کہ کسی اسلامی سلطنت کے بغیر اسلام بھی مادی طور پر غالب نہیں آسکتا۔اس لیے پھل کو دیکھنے کے لیے میں جڑ کی پروا نہیں کرتا۔غرض ہم تو بڑے بڑے اخراجات کے عادی ہیں اور یہ تو ایک ایسی چیز ہے جو شریعت کے مطابق ہے اور مستورات کے احترام کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔میں جب جمعہ کے لیے آ رہا تھا تو حضرت خلیفہ مسیح الاول کا ایک لطیفہ مجھے یاد آ گیا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ میرا ایک لاکھ پتی دوست تھا جو مسلمان تھا۔میں نے اسے اس طرف توجہ دلانی چاہی