خطبات محمود (جلد 30) — Page 362
$ 1949 362 خطبات محمود سے بھی روزانہ پانچ وقت نماز کے لیے لوگ مسجد میں نہیں آسکتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بوجہ اس مجبوری کے لوگ گھروں پر نماز پڑھ لیتے ہیں اور جب لمبی عادت پڑ جاتی ہے تو خواہ مسجد گھر کے قریب بھی بن جائے وہ مسجد میں نہیں جاتے۔انسان غفلت کا اتنا عادی ہو جاتا ہے کہ وہ اسے دبا نہیں سکتا۔اس کے علاوہ اور بھی کئی ایسی باتیں ہیں جو جماعت کے متفرق جگہوں پر پھیلے ہوئے ہونے کی وجہ سے جماعتی طور پر اس میں غفلت پیدا کر رہی ہیں۔اس طرح میں سمجھتا ہوں کہ بوجہ دُوری جب جنازہ میں جانے کی عادت نہیں رہتی تو انسان بعض دفعہ یہ خیال کر لیتا ہے کہ فلاں شخص چلا گیا ہو گا، فلاں چلا گیا ہو گا اس لیے میں نہیں گیا تو کیا حرج ہے۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ المسیح الاول جب بیمار تھے اور لوگ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے ہوتے تو بعض دفعہ جب آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہو جاتی آپ فرماتے احباب چلے جائیں۔چونکہ آپ نام لے کر نہیں کہتے تھے اس لیے زیادہ شرم والے لوگ تو چلے جاتے تھے باقی لوگ وہیں بیٹھے رہتے اور وہ سمجھتے تھے کہ وہ ان لوگوں میں شامل نہیں ہیں جن کو جانے کے لیے کہا گیا ہے بلکہ وہ خاص احباب میں سے ہیں۔پھر جب آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہو جاتی تو آپ فرماتے چلے جائیں۔پھر کچھ لوگ چلے جاتے لیکن بعض لوگ پھر بھی وہیں بیٹھے رہتے۔ایسے لوگوں کے لیے حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے ایک محاورہ بنایا ہوا تھا۔آپ فرماتے اب نمبر دار بھی چلے جائیں۔یعنی وہ لوگ جو اپنے آپ کو ان لوگوں میں نہیں سمجھتے جن کو جانے کے لیے کہا گیا ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو خاص لوگوں میں سے قرار دیتے ہیں وہ بھی چلے جائیں۔غرض جو حکم عام ہوتا ہے بسا اوقات لوگوں میں اس کی اطاعت کا احساس نہیں ہوتا اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ دوسرے کسی شخص نے وہ کام کر دیا ہو گا۔اس لیے قادیان میں جنازہ کے لیے مجھے یہ انتظام کرنا پڑا کہ فلاں دن جو جنازہ آئے اُس کی خدمات ادا کرنے کا انتظام فلاں محلہ کرے، فلاں دن جو آئے اس کا انتظام فلاں محلہ کرے۔اس طرح لوگوں پر زیادہ بوجھ نہیں پڑتا تھا اور پھر ہم گرفت بھی کر سکتے تھے۔ہم کہہ سکتے تھے کہ آج تمہاری ڈیوٹی تھی تم نے اسے کیوں ادا نہیں کیا ؟ پس جن جن شہروں میں جماعت کے دوست دور دور رہتے ہیں ان میں اگر ایسا انتظام کر لیا جائے تو ایک حد تک وہاں کی جماعت میں بیداری پیدا ہو سکتی ہے۔مثلاً لا ہور ہے لاہور کے دوستوں سے یہ امید کرنا کہ وہ کسی جنازہ پر