خطبات محمود (جلد 30) — Page 283
$ 1949 283 خطبات محمود حالانکہ یونیورسٹی کی اوسط 39 فیصدی ہے۔یہی حال اور جماعتوں کے نتائج کا ہے۔کوئی ایک جماعت بھی ایسی نہیں جس کا نتیجہ یونیورسٹی کی اوسط سے کم ہو بلکہ ہر جماعت کا نتیجہ یونیورسٹی کی اوسط سے بڑھ کر ہے۔اگر کسی کلاس کے متعلق یو نیورسٹی کی اوسط 35 فیصدی ہے تو ہمارے کالج کی اوسط ساڑھے سینتیس فیصدی ہے۔یا اگر یو نیورسٹی کی اوسط 35 فیصدی ہے تو ہمارے کالج کی 39 فیصدی ہے اور ایک کلاس کے متعلق تو میں نے بتایا ہے کہ ہمارے کالج کا نتیجہ اس میں 90 فیصدی کے قریب ہے حالانکہ یو نیورسٹی کی اوسط اس سے بہت کم ہے۔وہ لوگ جن کے دلوں میں یہ شبہات ہوا کرتے تھے کہ ہمارے کالج میں لڑکوں کی تعلیم کا زیادہ بہتر انتظام نہیں اب ان نتائج کے بعد ان کے شبہات دور ہو جانے کی چاہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے کالج کے نتائج سوائے ایک کے باقی تمام کالجوں سے زیادہ شاندار نکلے ہیں اور ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو حصول تعلیم کے لیے فورا تعلیم الاسلام کا لج میں داخل کرنے کی کوشش کریں۔اس بارہ میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی سے کام نہ لیں۔اس کالج میں اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے بھجوانا اس قدر ضروری اور اہم چیز ہے کہ میں تو سمجھتا ہوں جو شخص اپنے بچوں کو باوجود موقع میسر آنے کے اس کالج میں داخل نہیں کرتا وہ اپنے بچوں کی دشمنی کرتا اور سلسلہ پر اپنے کامل ایمان کا ثبوت مہیا نہیں کرتا۔اگر وہ کسی اور جگہ اپنے بچوں کو داخل کرے گا تو صرف اس لیے کہ فلاں بورڈنگ اچھا ہے یا فلاں جگہ کھانا زیادہ اچھا ملتا ہے یا فلاں جگہ غیر قوموں کے لوگوں سے ملنے کا زیادہ موقع ملتا ہے۔حالانکہ اصل چیز تعلیم ہے، اصل چیز دینی تربیت اور اعلیٰ اخلاق کا حصول ہے اور یہ چیزیں تعلیم الاسلام کالج کے سوا کسی اور کالج میں زیادہ بہتر طریق پر حاصل نہیں ہو سکتیں۔تعلیم الاسلام کالج کی غرض یہ ہے کہ لڑکوں کو دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینیات کی تعلیم بھی دی جائے اور یہ تعلیم کسی اور جگہ نہیں دی جاتی۔پس باہر کی جماعتوں کو اس بارہ میں اپنی ذمہ داری کو سمجھنا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے بچوں کو تعلیم الاسلام کالج میں داخل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ لڑکے بھی غلط قدم اُٹھا لیتے ہیں اور وہ اپنے ماں باپ کو صحیح حالات سے بے خبر رکھتے ہوئے دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔دراصل بچپن کی عمر ہی ایسی ہے کہ اس میں انسانی عقل پختہ ہے نہیں ہوتی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے بچہ کئی دفعہ ایسی باتیں کہہ دیتا ہے جو واقعات کے خلاف ہوتی ہیں اور اس طرح ماں باپ دھوکا میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں