خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 280

* 1949 280 خطبات محمود مجھے ملامت کی اور کہا ضرار ! معلوم ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں مرنے سے ڈرتا ہے اور شاید زرہ تو نے اس لیے پہن رکھی ہے کہ یہ بڑا مشہور جرنیل ہے اور کئی مسلمانوں کو شہید کر چکا ہے۔اگر تو نے زره ای تار دی تو ایسا نہ ہو کہ تجھے بھی یہ شخص مار ڈالے۔یہ خیال میرے دل میں آیا ہی تھا کہ میں دوڑ کر اپنے تھے خیمہ کی طرف چلا گیا اور میں نے سمجھا کہ اگر اس وقت میں مارا گیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا کہ ضرار! تم نے زرہ کیوں پہن رکھی تھی؟ معلوم ہوتا ہے تمہیں ہم سے ملنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔اگر شوق ہوتا تو اس طرح موت سے بھاگنے اور بیچنے کی کوشش کیوں کرتے۔تو میں اس سوال کا کوئی جواب نہیں دےسکوں گا۔میرے لیے سوائے ندامت اور شرمندگی کے اور کوئی چارہ نہیں ہوگا اور میری موت مومنوں والی موت نہیں ہوگی۔پس میں دوڑتے ہوئے اپنے خیمہ میں گیا اور میں نے زیرہ اتار دی تا کہ اگر میں مروں تو میں اللہ تعالیٰ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔چنانچہ اب میں بغیر زرہ کے لڑنے کے لیے جارہا ہوں اور میں مطمئن ہوں کہ اگر میں مرا تو میں اللہ تعالیٰ کے سامنے شرمندہ نہیں ہوں گا۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسی دنیا میں ہی خدا تعالیٰ کو دیکھ لیا تھا اور وہ اسکی ملاقات کے لیے ہر وقت بیتاب رہتے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ موت ایک پل ہے جس پر سے گزر کر ہم اپنے محبوب سے ملتے ہیں۔اس لیے موت سے ڈرنے اور گھبرانے کے کوئی معنی ہی نہیں اور یہی ایمان کا اصل مقام ہوتا ہے۔اس مقام کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے کہ انسان نمازوں کی پابندی اختیار کرے نوافل پڑھے، تہجد کی عادت ڈالے، ذکر الہی کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی یہ سمجھنے لگے کہ شیخص ہمارا عاشق ہے۔اور جب کوئی شخص عاشق بن جائے تو اسے اللہ تعالیٰ کا قرب ضرور حاصل ہو کر رہتا ہے۔سو آپ لوگ جو یہاں آئے ہوئے ہیں میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ نمازوں کی عادت ڈالیں۔آج کا ہجوم بتاتا ہے کہ لاہور میں ہماری جماعت کے احباب بہت کافی تعداد میں پائے جاتے ہی ہیں۔پس آپ لوگوں میں سے جو سُست ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ تم نمازوں کی پابندی کی عادت ہے ڈالو۔اور جو سُست نہیں ان سے میں کہتا ہوں کہ تم دوسروں کو بیدار کرنے کی کوشش کرو۔تا کہ کوئی فردا بھی ایسا نہ رہے جو نمازوں اور نوافل اور ذکر الہی میں سُست ہو۔بلکہ جمعہ پڑھنا تو الگ چیز ہے، فرض نمازوں کی پابندی بھی الگ چیز ہے میں تو یہ کہتا ہوں ہر احمدی کو ان عبادات اور ذکر الہی کی طرف اس قدر توجہ رکھنی چاہیے کہ غیر شخص ہمیں دیکھتے ہی اس یقین پر پہنچ جائے کہ چونکہ یہ احمدی ہے اس لیے ہے