خطبات محمود (جلد 30) — Page 19
خطبات محمود 19 * 1949 دے دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا نذیر تو گھر نہیں تھا میں وہ روپیہ اُس کی بیوی کو دے آئی ہوں۔میری جب آنکھ کھلی تو میں نے اس رؤیا کے مضمون پر غور کیا۔رؤیا کے بعض حصے ایسے ہوتے ہیں جو اصلی ہوتے ہیں اور بعض حصے ایسے ہوتے ہیں جو اصلی نہیں ہوتے بلکہ وہ بطور پس پردہ کے ہوتے ہیں جن میں ایک حد تک انسانی دماغ کا حصہ ہوتا ہے۔یہ مضمون میں نے کئی بار بیان کیا ہے۔بعض دفعہ انسان خواب میں ایک نظارہ دیکھتا ہے اور وہ اس نظارہ کے بالکل الٹ ہوتا ہے جو وہ بیداری میں دیکھتا ہے۔مثلاً ایک شخص خواب میں مرنا دیکھے تو اس سے مراد خوشی ہوتی ہے ہے اور اگر کسی غیر معروف مقام پر کسی کی شادی دیکھے تو اس سے مراد موت ہوتی ہے۔گویا رویا میں اگر کوئی مرنا دیکھے تو اس سے مراد زندگی ہوتی ہے اور اگر کسی غیر معروف مقام پر کسی کی شادی دیکھے تو اس سے مراد مرنا ہوتا ہے۔مرنے کی تعبیر زندگی ہے اور شادی کی تعبیر موت ہے۔لیکن جب کوئی خواب میں کسی کی موت دیکھتا ہے تو وہ روتا ہے کیونکہ اس دنیا میں جب کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو وہ ہے روتا ہے۔اسی عادت کے مطابق وہ خواب میں روتا ہے۔میں نے غور کرنے کے بعد یہ سمجھا کہ اس کی خواب کی تعبیر یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے انبیاء نذیر ہوتے ہیں مگر نذیر خدا تعالیٰ بھی ہوتا ہے۔یہاں نذیر سے مراد خدا تعالیٰ ہے کیونکہ وہ خوشخبریاں بھی دیتا ہے اور تنبیہ بھی کرتا ہے، سرزنش بھی کرتا ہے اور اپنے بندوں کو ہوشیار بھی کرتا ہے۔پس میں نے اس رڈیا کی یہ تعبیر کی کہ جماعت پر بعض ابتلاء آئیں گے جن کے دور کرنے کے لیے جماعت کو صدقہ دینا چاہیے۔میری جب آنکھ کھلی اُس وقت میں نے تین ہزار پانچ سو پونڈ کا اندازہ باون ہزار روپیہ کا لگایا لیکن جب حسابی طور پر اس کا اندازہ لگایا تو یہ رقم اڑتالیس ہزار روپے کے قریب ہوتی ہے۔اور رویا میں میں نے وہ رقم جو نذیر کو دی ہے اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ ہمیں یہ رقم خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنی چاہیے۔اور پھر خواب میں وہ رقم نذیر کو نہیں دی گئی ہے اُس کی بیوی کو دی گئی ہے۔اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ صدقہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں نہیں جاتا اُس کی کے بندوں کے پاس جاتا ہے۔جیسے بیوی اپنے خاوند کے تابع ہوتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے بندے بھی اُس کے تابع ہوتے ہیں۔صوفیاء نے لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ اور بندے کے تعلقات خاوند اور بیوی کے تعلقات کی طرح ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے فیض آتا ہے اور بندے اسے