خطبات محمود (جلد 30) — Page 251
* 1949 251 (26) خطبات محمود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بلند مقام (فرموده 19 راگست 1949ء بمقام پارک ہاؤس کوئٹہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت کی: قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 1 اس کے بعد فرمایا: تیسری بات اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مَحْیائی بیان فرمائی ہے۔مَحْيَا کے ایک معنے تو زندگی کے ہوتے ہیں۔یعنی جس بات کے لیے لفظ ”حیات استعمال ہوتا ہے انہی معنوں میں لفظ مَحْيَا بھی استعمال ہوتا ہے لیکن مَحْيَا کے معنے علاوہ زندگی کے مقام زندگی کے بھی ہوتے ہیں۔یعنی جس جگہ کوئی شخص رہتا ہے اور اپنی زندگی بسر کرتا ہے وہ بھی محیا کہلاتی ہے۔اس کے ساتھ بھی اللہ رَبِّ الْعَلَمِينَ کہ کر یہ قید لگادی گئی ہے کہ میری ساری زندگی اس خدا کی خاطر ہے جو تمام جہانوں کی ربوبیت کرنے والا ہے۔خدا تعالیٰ کی خاطر زندگی کئی درجے رکھتی ہے۔سب سے ادنی درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو اس بات پر آمادہ کر لے کہ اگر خدا تعالیٰ کے لیے اسے دنیا چھوڑنی پڑی تو وہ چھوڑ دے گا۔بیشک وہ عملاً دنیا چھوڑ نہیں دیتا لیکن ضرورت پڑنے پر وہ اپنے نفس کو اس بات کے لیے تیار پاتا ہے۔مگر یہ خدا کے لیے زندگی بسر کرنے کا سب سے ادنی درجہ ہے کامل درجہ نہیں۔کیونکہ ایک آدمی