خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 250

$ 1949 250 خطبات محمود کر یہ بتایا ہے کہ میں بندوں کے احسانوں کی بھی قدر کرتا ہوں لیکن یہ سمجھ کر کرتا ہوں کہ اس کے پیچھے خدا تعالی کا ہاتھ ہے۔میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ہر ذرہ کے پیچھے خدا تعالی کا ہاتھ کام کر رہا ہے۔جوشخص ایسی قربانی کرتا ہے وہ بظاہر قوم اور وطن اور رشتہ داروں کے لیے قربانی کر رہا ہوتا ہے لیکن وہ انہیں ایک ذریعہ سے زیادہ درجہ نہیں دیتا۔وہ سمجھتا ہے کہ ہر فعل دراصل خدا تعالیٰ ہی کر رہا ہے اس طرح وہ دونوں کا حق ادا کر دیتا ہے۔قریبی محسن کا بھی اور دُور کے محسن کا بھی جس نے قریبی محسن کے دل میں وہ خواہش پیدا کی۔اور یہی قربانی اصل اور اعلیٰ درجہ کی ہے“۔(الفضل 30 دسمبر 1959ء) 1 : الانعام: 163 2 : بخاری کتاب الاجارة باب من استاجر اجیرا فترک اجره (الخ) 3 : الشعراء : 4 4 : اسد الغابة جلد 3 صفحہ 109 مطبوعہ ریاض 1286ھ 5 : بخاری کتاب مناقب الانصار باب تزويج النَّبيِّ صلى الله عليه وسلم خَدِيجَةَ (الخ) 6 مغازي للواقدى مسير النبي صلى الله عليه وسلم الى الجعرانة بَعْدَ عَوْدِهِ مِنَ الطَّائف جلد 1 صفحہ 950 ذکر وفد هوازن میں رضاعی بہن کی بجائے رضاعی چا کا ذکر ہے۔(مفہوما ) 7 : تفسير روح البيان سورۃ ابراھیم آیت 18 جلد 4 صفحہ 409 مطبع المكتبة الاسلامية عثمانية1330ھ عامی: عام، کم علم ، عام آدمی ، جو کسی فن میں عالم یا صاحب فن کے مقابلہ میں نابلد ہو ( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 13 صفحہ 294 مطبوعہ کراچی 1991ء)