خطبات محمود (جلد 30) — Page 16
* 1949 16 خطبات محمود گیا تو اُس نے دھاگے کے سرے کے ساتھ ذرا موٹا دھاگا باندھ دیا۔پھر اُس کے آگے ستلی 2 باندھ دی۔پھر اُس سے ذرا زیادہ موٹی رسی اُس مستلی کے ساتھ باندھ دی۔اور پھر اُس رہتی کے ساتھ موٹا رتہ باندھ دیا اور اس طرح رستہ کے ذریعہ وہ قیدی نیچے اتر آیا۔اسی طرح اسلام کی ترقی کی ہوگی۔مسلمانوں میں جو جان تھی وہ تو گویا نکل ہی گئی ہے۔شاید لمبی غلامی ، غفلت اور سستی کی وجہ ی سے ایسا ہوا ہے لیکن بہر حال اس کی کوئی وجہ ہو ہم اگر اپنے سے زیادہ پست قوموں میں سے آدمی لے لیں اور پھر وہ آدمی اپنے سے زیادہ پست قوموں سے آدمی لیں تو جس طرح دھاگے کے ساتھ آہستہ آہستہ رستہ باندھ دیا گیا تھا اور رستہ اوپر چلا گیا اس طرح کمزور سے کمزور آدمی کے ذریعہ قوی سے قوی لوگ اسلام میں داخل ہونے شروع ہو جائیں گے اور اسلام تمام ممالک میں پھیل جائے گا۔خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے لیکن وہ تدبیروں سے بھی کام لیتا ہے اور ایسے رستے کھول دیتا ہے جن سے ترقی کے رستے وسیع سے وسیع تر ہو جاتے ہیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم صحیح رنگ میں اپنی اصلاح کریں تاکہ اپنا نیک نمونہ پیش کر سکیں اور اسلام کو دنیا میں پھیلانے والے بنیں اور ہم اشاعت اسلام کے لیے ایسی مناسب فضاء پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں جس کے بغیر ہم (الفضل 24 جولائی 1949ء) اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے“۔1 : استثناء باب 20 آیت 2 : متلی : سن یاسوت کی ڈوری ( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 11 صفحہ 501 کراچی 1990ء)