خطبات محمود (جلد 30) — Page 225
$1949 225 خطبات محمود قرآن کریم نے مختصراً کیا ہے یا نہیں کیا اُن کے زمانے بھی ہمارے سامنے ہیں۔یہ تمام کے تمام انبیاء ایسے تھے جن کی جماعتیں ایک خاص رنگ کے مصائب سے گزر کر ترقی کے مقام کو پہنچیں۔لیکن ہماری جماعت ابھی تک اس رنگ کے مصائب میں سے نہیں گزری۔دراصل اس میں ابتدائی کی زمانہ سے ہی کچھ ایسا عنصر آ گیا تھا جس نے اسے بجائے ایک الہی جماعت سمجھنے کے سوسائٹی اور انجمن سمجھ لیا اور یہ خیال کر لیا کہ جس طرح کسی خاص مقصد میں کامیابی حاصل کرنے اور ترقی حاصل کرنے کے لیے کسی انجمن یا سوسائٹی میں داخل ہونا ضروری ہے اسی طرح ہم بھی اس میں داخل ہو کر اپنے مقصد کو پالیں گے۔اس سے زیادہ انہوں نے کوئی بات اپنے مدنظر نہ رکھی۔مجھے خوب یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا مجھے یاد نہیں کہ اُس موقع پر گھر میں کوئی اور آدمی بھی موجود تھا یا نہیں۔ہوسکتا ہے وہاں میرے سوا اور بھی کوئی ہو کیونکہ میری عمر چھوٹی تھی اور اتنی اہم بات آپ نے صرف مجھے مخاطب کر کے نہیں کہی ہوگی۔غالباً حضرت اماں جان یا حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب گھر میں موجود ہوں گے اور ان کی جی موجودگی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بات بیان فرمائی۔آپ نے فرمایا ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ شامل ہیں۔ایک وہ ہیں جنہوں نے میرے دعوی کو اچھی طرح سمجھا اور پھر مجھ پر دل سے ایمان لا کر جماعت میں داخل ہوئے۔دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جنہیں مولوی صاحب یعنی حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے ساتھ حسن ظنی تھی انہوں نے جب آپ کے علم کا شہرہ سنا اور دیکھا کہ وہ اس جماعت میں داخل ہو گئے ہیں تو آپ کی نقل میں انہوں نے کی بھی میری بیعت کرلی اور تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے ہماری جماعت کو منظم اور کام کرنے والی دیکھا، دوسرے مسلمانوں کا انہوں نے تجربہ کیا تو اُن میں کسی قسم کی زندگی اور بیداری نہ پائی لیکن ہماری جماعت میں ایک خاص قسم کا جوش عمل انہیں نظر آیا اس لیے وہ اس میں داخل ہو گئے۔وہ بھی ایمان کی وجہ سے اس جماعت میں داخل نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اسے حصولِ مقصد کے لیے ایک ذریعہ بنانا چاہا۔حقیقت یہ ہے کہ خواہ دانستہ طور پر انہوں نے ایسا کیا یا نادانستہ طور پر بہر حال ہماری کی جماعت میں شروع سے ہی کچھ ایسے لوگ شامل ہو گئے تھے جنہوں نے اسے ایک سوسائٹی یا انجمن