خطبات محمود (جلد 30) — Page 204
* 1949 204 خطبات محمود زمانہ تھا۔اس زمانہ میں کوئی ایسا ٹھوس کام جو جماعت کی تبلیغی ترقی کے ساتھ وابستہ ہوتا نہیں ہوا بلکہ سارا وقت اندرونی لڑائیوں اور آپس کے جھگڑوں میں ہی گزر گیا۔مگر بہر حال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اُس زمانہ میں بھی جماعت نے ترقی کی اور پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی اور خصوصاً ای ہائی اسکول کی تعمیر ایک نمایاں کام تھا۔اُس زمانہ میں زیادہ تر اندرونی فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مجھے ہی جنگ کرنی پڑی اور اسی وجہ سے مخالفین اور فتنہ پرداز لوگوں کے ان حملوں کا جو حضرت خلیفہ مسیح الاول اور ان کی تائید کرنے والے لوگوں پر کیے گئے زیادہ تر میں ہی ہدف رہتا تھا۔پھر میرا زمانہ آیا جس میں عام طور پر غیروں نے سمجھ لیا کہ اب یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔کیونکہ سب کام ایک بچے کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔سلسلہ کے سپر دفتح دنیا کا کام ہے اور کام ایک غیر تعلیم یافتہ اور ناتجربہ کار بچہ کے سپرد ہو گیا ہے جس نے بڑے بڑے کام نہیں کیے۔میں بتا چکا ہوں کہ حضرت خلیفتہ اسی الاول کا زمانہ زیادہ تر خلافت کے قیام کا زمانہ تھا لیکن اب خلافت کے کام کا زمانہ شروع ہو رہا تھا۔اس زمانہ میں خلافت کی بنیادوں پر عمارت کی تعمیر شروع ہوئی اور مختلف لوگوں کو مختلف رنگوں میں خدمت دین کا موقع ملا۔ابتدائی زمانہ میں میں سمجھتا ہوں کہ جو کام حضرت حافظ روشن علی صاحب کو کرنے کا موقع ملا ہے وہ کسی اور کو نہیں ملا۔وہ صف اول کے جرنیل تھے۔انہوں نے مخالفین خلافت سے متواتر مباحثات کیے اور ان پر خلافت کی ضرورت اور کی اہمیت واضح کی۔دنیوی لحاظ سے چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو بہت سے کاموں کے کرنے کا موقع ملا۔وہ زیادہ تر قادیان میں نہیں رہے لیکن پھر بھی انہیں تو فیق ملی اور دین کی اشاعت میں لگے رہے۔انہوں نے میرے مختلف مضامین اور کتب کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا۔سلسلہ کے مقدمات مفت کیے۔سلسلہ کے کاموں کے لیے افسروں اور دیگر عظماء سے ملتے رہے اور اس طرح ہے اشاعتِ سلسلہ میں نمایاں حصہ لیا۔درمیان میں کئی اور بھی فتنے اٹھے۔کسی میں میر محمد اسحاق صاحب کو کام کرنے کا موقع ملا اور کسی میں مفتی محمد صادق صاحب کو۔امریکہ میں جماعت احمدیہ کا مشن مفتی محمد صادق صاحب نے قائم کیا۔انگلستان میں یہ کام چودھری فتح محمد صاحب نے کیا اور کی مغربی افریقہ میں مشن قائم کرنے کا سہرا مولوی عبد الرحیم صاحب نیر کے سر رہا۔یہ لوگ صرف مبلغ نہیں تھے بلکہ یہ وہ لوگ تھے جنہیں غیر معمولی حالات میں کام کرنا پڑا۔خصوصاً انگلستان اور امریکہ