خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 99

* 1949 99 خطبات محمود کرنے کی تجویز ہوگئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس سال جلسہ سالانہ دسمبر کی بجائے اپریل میں منعقد ہو تو لوگوں نے یہ وہم کرنا شروع کر دیا کہ وہاں گرمی ہو گی، کھانے ، پانی اور رہائش کی دقت ہوگی۔پہلے خیال تھا کہ ایسٹر کی تعطیلات مارچ میں ہوں گی اور مارچ کا موسم اچھا ہوتا ہے زیادہ گرم نہیں ہے ہوتا لیکن جب ایسٹر کی تعطیلات اپریل میں نکلیں یا یوں کہو کہ جب علم ہوا کہ ایسٹر کی تعطیلات اپریل میں ہوں گی تو لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہونا شروع ہوا کہ اس دفعہ وہاں جلسہ کرنا ناممکن ہے لیکن جو اُمید ہمارے ذہن میں تھی اس کے خلاف لوگ بہت زیادہ تعداد میں آئے۔ہمارا خیال تھا کہ اس دفعہ جلسہ سالانہ پر صرف دس ہزار آدمی آسکیں گے کیونکہ ایک تو موسم اچھا نہیں تھا ، گرمی زیادہ تھی ، پھر یہ فصلوں کا وقت تھا اور کٹائیاں ہو رہی تھیں اور زمیندار کٹائی چھوڑ کر جلسہ پر نہیں آسکتے ہے تھے۔پھر بعض لوگ اس لیے بھی نہ آسکے کہ نئی جگہ ہونے کی وجہ سے وہاں رہائش کا مناسب انتظام نہ تھا۔لیکن تقسیم پرچی سے جو اندازہ لگایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تین ہزار پانچ سو کے قریب وہ عورتیں تھیں جن کے کھانے کا انتظام لجنہ اماءاللہ کے ماتحت کیا جاتا تھا اور دس ہزار چھ سو کے قریب وہ پر چی تھی جس کا انتظام مردوں کے ذریعہ کیا جاتا تھا۔اس طرح یہ تعداد پندرہ ہزار کے قریب ہو جاتی ہے۔لیکن ڈیڑھ ہزار کے قریب وہ لوگ تھے جو کھانے کی پرچی میں شمار نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ وہ جلسہ سننے کے لیے تو آجاتے تھے مگر کھانے کے وقت واپس چلے جاتے تھے۔مثلاً احمد نگر میں چھ سات سو آدمی ٹھہرے ہوئے تھے وہ جلسہ سننے کے لیے آتے تھے اور پھر چلے جاتے تھے۔کھانا ربوہ میں نہیں کھاتے تھے۔اسی طرح بعض لوگ چنیوٹ میں بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔اس کے علاوہ چنیوٹ میں بھی کافی احمدی بستے ہیں۔کچھ تو فسادات کے بعد وہاں آکر بس گئے ہیں اور کچھ وہاں کے باشندے ہیں۔بہر حال سات آٹھ سو کے قریب ایسے لوگ تھے جو چنیوٹ میں ٹھہرے ہوئے تھے اور جلسہ سننے کے لیے روزانہ ربوہ آجاتے تھے اور چلے جاتے تھے۔وہاں کھانا تی نہیں کھاتے تھے۔احمد نگر اور چنیوٹ کے علاوہ بعض دوسری جگہوں سے بھی لوگ صرف جلسہ کے وقت آتے تھے حتی کہ ایک دوسو آدمی لائکپور سے بھی ایسا آتا تھا۔پھر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے کھانے کا اپنا انتظام کیا ہوا تھا۔مثلاً سو کے قریب ہمارے ہی خاندان کے افراد تھے جن کا کھانے کا اپنا انتظام تھا۔اس طرح پندرہ سو سے دو ہزار تک ان لوگوں کی تعداد ہو جاتی ہے جو لنگر