خطبات محمود (جلد 30) — Page 100
$ 1949 100 خطبات محمود کے انتظام کے ماتحت کھانا نہیں کھاتے تھے بلکہ ان کا اپنا انتظام تھا۔اس تعداد کو ملا کر سترہ ہزار کے قریب ایسے لوگ تھے جو اس سال جلسہ میں شامل ہوئے اور ان مخالف حالات کے باوجود شامل ہوئے جن کے ہوتے ہوئے بعض لوگ کہتے تھے کہ اس سال وہاں جلسہ سالانہ نہیں ہو سکے گا۔بلکہ بعض مخالف ایسے تھے جنہوں نے ان مخالف حالات کی وجہ سے یہ پیشگوئیاں کرنی شروع کر دی تھیں کہ یہ جلسہ سالانہ اس سال نہیں ہو سکے گا مگر خدا تعالیٰ نے اپنا خاص فضل نازل کیا اور جلسہ ہوا اور صرف ہوا ہی نہیں بلکہ اس کامیابی کے ساتھ ہوا کہ لوگ حیران رہ گئے۔چنانچہ اتنے لوگوں کا وہاں آجانا تو حُسنِ ظنی کے ماتحت بھی ہو سکتا ہے لیکن جو تکلیفیں اور مشکلات وہاں تھیں ان کے باوجود وہاں لوگوں کا رہنا اور ان کو خوشی سے برداشت کرنا یہ ایسی چیز تھی جو تائید الہی کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔مثلاً پہلے دن ہی سوا دو بجے رات تک بہت سے لوگ ایسے تھے جنہیں کھانا نہیں ملا تھا۔مجھے ساڑھے بارہ بجے کے قریب یہ آوازیں آنی شروع ہوئیں کہ ٹھہرو! ابھی کھانا دیتے ہیں۔ٹھہرو! ابھی کھانا دیتے ہیں۔میں نے ایک آدمی لنگر خانہ بھجوایا اور اس طرح مجھے معلوم ہوا کہ روٹیاں ابھی پہنچی ہی نہیں۔کچھ روٹیاں پہنچی ہیں لیکن وہ بہت تھوڑے لوگوں کو مل سکی ہیں۔میں خود وہاں گیا اور ہے لنگر خانہ کے کارکنوں سے پوچھا کہ روٹی کا ابھی تک کیوں انتظام نہیں ہو سکا؟ اس پر مجھے بتایا گیا کہ ہماری تمام کوششیں بالکل ناکام ہو چکی ہیں۔اس میں کچھ منتظمین کا بھی قصور تھا کیونکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ اس دفعہ ساٹھ تندور لگائے جائیں گے لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ صرف چالیس تندور لگائے گئے ہیں۔بہر حال چونکہ عام طور پر خیال یہ تھا کہ جلسہ پر بہت کم لوگ آئیں گے اس لیے ی تندور کم لگائے گئے۔باورچی بھی کم تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اُن پر کام کا بوجھ زیادہ پڑا۔گرمی کا موسم تھا جوشیڈ (SHED) بنائے گئے تھے وہ کم تھے۔پھر ایک طرف دیوار کھینچی ہوئی تھی جس کی وجہ سے ہوا نہیں آتی تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ نو باور چی بے ہوش ہو گئے ان کو دیکھ کر باقی باورچیوں نے کام چھوڑ کے دیا اور کہہ دیا کہ ہم اپنی جان کو مصیبت میں کیوں ڈالیں؟ اس وجہ سے کو دس بجے تک روٹی کا کوئی ہے انتظام نہ ہو سکا بلکہ اُس وقت تک انہیں کام کرنے کی طرف کوئی رغبت ہی نہ تھی۔تھوڑے سے کی چاول ابالے گئے اور وہ بچوں کو دیئے گئے۔پھر بچوں توں کر کے روٹی کا انتظام کیا گیا اور صبح کے پانچ بجے تک روٹی تقسیم ہوتی رہی اور وہ بھی بہت تھوڑی تھوڑی۔حالانکہ بعض لوگ ایسے بھی تھے b