خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 74

1949ء 74 9 خطبات محمود يَأَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ (فرمودہ 8 را پریل 1949 ء لاہور ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ذیل کی آیت قرآنیہ تلاوت کی: يَأَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ - 1 پھر فرمایا: 1- دنیا کی بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ جن کی حقیقت پر اگر غور نہ کیا جائے تو انسان ظاہری حالات سے ان چیزوں سے غلط نتائج اخذ کر لیتا ہے۔ مثلاً انسان کو ہی دیکھ لو وہ بولتا ہے۔ اب ایک ناواقف انسان جس نے کسی کو بولتے نہیں دیکھا وہ جب کسی کو بولتے ہوئے دیکھتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ یہ خود نہیں بول رہا بلکہ ایک مشین ہے جو بول رہی ہے یا اس کے اندر کوئی چیز ہے جو باتیں کر رہی ہے یا گراموفون ہے۔ ایک ناواقف آدمی جس نے پہلے کبھی گراموفون نہ دیکھا ہو وہ جب اسے دیکھتا ہے تو کہہ دیتا ہے کہ اس کے اندر کوئی چیز بیٹھی ہے جو بول رہی ہے۔ ہمارے گھر کا ہی ایک لطیفہ ہے۔ میاں بشیر احمد صاحب کی لڑکی امۃ اللطیف کو جب وہ چھوٹی عمر کی تھی گھر والے پہلی دفعہ جمعہ پر لے گئے ۔ اس سے پہلے اس نے لاؤڈ سپیکر نہیں دیکھا تھا۔ میاں صاحب کے بچے عام طور پر چھوٹی عمر میں ہسٹیریکل ( HYSTERICAL) ہوتے ہیں۔ وہ جلد ہی رونے اور گھبرانے لگ جاتے ہیں۔ امۃ اللطیف جب اس جگہ جا کر بیٹھی جہاں عورتیں جمعہ پڑھا کرتی تھیں اور میں نے ۔ خطبہ دینا شروع کیا تو اس کے پاس جو لاؤڈ سپیکر کا ایک ڈبہ لگا ہوا تھا جونہی اس نے میری آواز سنی