خطبات محمود (جلد 30) — Page 66
خطبات محمود 66 * 1949 بہر حال یہ ماں باپ کا کام ہے کہ وہ ان باتوں کو بار بار دہراتے اور بار بار اپنی اولاد کے ذہن نشین کرتے رہیں۔اگر ماں باپ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں تو گھر کی بہت سی لغو بیتیں خود بخود دُور ہوتی چلی جائیں۔بہت سے فسادات ، بہت سے جھگڑے، بہت سی لغو میتیں اور بہت سی بے ہودہ باتیں محض اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ بچوں کو یہ پتا ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنا وقت کس طرح گزاریں۔اگر ہر شخص اپنی اولاد کو نصیحت کرتا رہے اور وہ یہ خیال رکھے کہ اس بچے کو میں نے یہ نصیحت کرنی ہے ہے، اُس بچے کو میں نے یہ نصیحت کرنی ہے، ان کی پڑھائی کا خیال رکھنا ہے، ان کی دینی تربیت کا خیال رکھنا ہے، ان کی صحت اور جسمانی طاقت کا خیال رکھنا ہے، ان کے کیریکٹر کا خیال رکھنا ہے اور وہ اس کے مطابق ان کے لیے ایک پروگرام بنا دے اور پھر ان کی نگرانی کرے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بچے سارا دن کسی نہ کسی شغل میں مشغول رہیں گے۔وہ لڑائی جھگڑا نہیں کرسکیں گے، وہ بیہودہ مذاق نہیں کریں گے اور لغو کاموں میں اپنا وقت ضائع نہیں کریں گے۔مگر جب ماں باپ ان ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے تو وہ ایسے طریق اختیار کر لیتے ہیں جن سے اُن کا وقت تو گزر جاتا ہے مگر کئی قسم کی بد عادات ان میں راسخ ہوتی چلی جاتی ہیں۔پھر بعض لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ باہر کلبوں میں اپنا سارا وقت گزار دیتے ہیں اور انہیں گھر کا کچھ پتا ہی نہیں ہوتا، سارا کام اپنی بیویوں کے سپر د کر دیتے ہیں۔اور جہاں بیویاں زور والی ہوں وہاں وہ بھی کہتی ہیں کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تم کلبوں میں جاؤ اور ہم نہ جائیں۔اور جب ماں باپ دونوں باہر چلے جاتے ہیں تو بچوں کی تربیت نوکروں کے سپرد ہو جاتی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ نوکر کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ بچہ ٹھیک رہتا ہے یا نہیں۔اگر وہ سارا دن ناچتا کودتا رہتا ہے اور نوکر پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا تو وہ خوش ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ بڑی اچھی ہے بات ہے اس کا مجھ پر کوئی بوجھ نہیں۔مگر وہ جتنا ان باتوں میں بڑھتا چلا جاتا ہے اتنا ہی اخلاق سے کرتا چلا جاتا ہے۔غرض اگر ماں باپ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور وہ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق نصیحتیں کرتے رہیں تو یہ نصیحتیں انہیں اپنے اوقات کو صحیح طور پر استعمال کرنے اور اعلیٰ تربیت حاصل کرنے میں بہت مدد دے سکتی ہیں۔درحقیقت اس عمر کے ساتھ کچھ مسائل کا تعلق ہوتا ہے اور ماں باپ کا