خطبات محمود (جلد 30) — Page 57
1949ء 57 خطبات محمود اخلاص اور اُن کے ایمانی جوش کو بڑھایا جائے مگر ہر جلسہ پر دس بارہ ہزار روپیہ کا نقصان ہو جاتا ہے اور اس دفعہ تو خرچ غالباً اسی ہزار روپیہ کے قریب ہوگا اور آمد ساڑھے اٹھارہ ہزار د ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی وقت ہے اور جماعتیں جلسہ سالانہ سے پہلے اپنا چندہ بھجوا سکتی ہیں لیکن جس نسبت اور رفتار سے یہ چندہ آ رہا ہے وہ بہت افسوسناک ہے اور اس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ شاید ہماری جماعت اس بوجھ کے اٹھانے میں غفلت کا ارتکاب کر رہی ہے۔ ممکن ہے کہ چونکہ نیا انتظام ہے اور وہاں نئے سرے سے ہی تمام انتظامات ہوں گے اور رہائش کے لیے مکانات بھی نہیں ہوں گے اس لیے کچھ لوگ رہائش کے لیے سہولتیں نہ پاتے ہوئے اور کچھ کھانے پینے کی دقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ آئیں ۔ اس کے علاوہ ہم اس سال غیر احمدیوں کو بھی عام دعوت نہیں دے رہے۔ کیونکہ ہم ڈرتے ہیں کہ ممکن ہے بعد میں انہیں یہ شکایت پیدا ہو کہ ہمیں اچھا کھانا نہیں ملا یا ہماری رہائش کا خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا صرف احمدیوں کو شامل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں ۔ اور چونکہ اُن کو بھی علم ہے کہ وہاں رہائش اور کھانے پینے کے لحاظ سے وقتیں ہوں گی اس لیے ممکن ہے بعض لوگ نہ آئیں۔ چنانچہ جہاں قادیان میں تمیں ہزار آدمی ریل کے ذریعہ اور آٹھ دس ہزار آدمی پیدل آ جاتا تھا وہاں موجودہ سال ہم نے ربوہ میں دس ہزار آدمیوں کے آنے کا اندازہ لگایا ہے۔ پس ممکن ہے کہ اخراجات بوجہ اس کے کہ لوگ کم آئیں تھوڑے ہوں لیکن بہر حال اس نئی صورت میں خواہ لوگ کم آئیں یا زیادہ عمارتوں کے اخراجات کے لیے بیس ہزار روپیہ ضرور صرف ہونا ہے۔ اس طرح بعض اور اخراجات ایسے ہیں جو کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے ۔ مثلاً پانی کا انتظام ہے۔ ربوہ میں پانی نہیں ملتا۔ چھ میل پر سے پانی لانا پڑے گا۔ پانی کے لیے ٹینکیاں بنانی ہوں گی ، ٹرک رکھنے پڑیں گے، نئے نلکے لگوانے پڑیں گے اور اس پر بارہ تیرہ ہزار روپیہ خرچ ہو گا۔ اور پانی چونکہ وقت پر مہیا نہیں ہو سکتا اس لیے قطع نظر اس کے کہ کتنے آدمی آئیں گے پانی کا انتظام کرنا ہوگا ۔ پس اس خیال سے کہ لوگ کم آئیں گے ہمیں اس چندہ میں کمی نہیں آنے دینی چاہیے کیونکہ بعض قسم کے اخراجات ایسے ہیں جو لازمی ہیں اور وہ ضرور ہوں گے۔ پھر میں تو اس بات کا قائل ہی نہیں کہ کوئی انسان محض وہموں کی وجہ سے اپنے فرض کو ادا نہ کرے۔ اس کی بابت وضاحت ملاحظہ ہو صفحہ 55 حاشیہ