خطبات محمود (جلد 30) — Page 53
$1949 53 خطبات محمود بہت بڑھ گئے ہیں۔قادیان میں ہمارا سو کے قریب کلرک تھا لیکن اس وقت غالباً زیادہ ہو چکا ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی دفتر لاہور میں ہے، کوئی چنیوٹ میں ہے اور کوئی احمد نگر میں ہے۔اس کے علاوہ ہمارے دفاتر اب دو ملکوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔گویا ہمارے دفتروں کا کام پہلے کی نسبت بہت بڑھ گیا ہے بلکہ اب تو ایک مستقل دفتر حفاظت مرکز کے لیے ہی قائم ہو چکا ہے۔اور اس کا کام یہی ہے کہ قادیان کے متعلق جو مشکلات پیدا ہوں اُن کا ازالہ کرے، گورنمنٹ سے خط وکتابت کرے، جماعتوں کو قادیان کے حالات سے باخبر رکھے اور ہر قسم کا ضروری ریکارڈ جمع کی کرتا رہے۔پھر چونکہ قادیان کی صدر انجمن احمد یہ بھی قائم ہے، اس کے دفاتر الگ ہیں مگر اُن دفاتر کا صرف خرچ کے ساتھ تعلق ہے۔ربوہ میں مکانات کی تعمیر یا صدر انجمن احمد یہ پاکستان کے ساتھ اُن کا کوئی تعلق نہیں۔اسی طرح تحریک جدید کے بہت سے کارکنان ہیں۔ان سب کارکنوں کو اگر ملایا جائے تو ہزار بارہ سو تک ان کی تعداد پہنچ جاتی ہے اور ان کی رہائش کے لیے کم سے کم اڑھائی تین سو مکانات کی ضرورت ہے۔اب تو ہمارے تین مکان لاہور میں ہیں۔ہمارا کالج بھی نہیں ہے ہے۔کچھ مکانات چنیوٹ میں ہیں، چالیس پچاس مکانات احمد نگر میں ہیں اور کچھ حصہ کارکنوں کا ہے خیموں میں رہتا ہے۔جب دفاتر اکٹھے ہوں گے تو ہمیں ضرورت ہوگی کہ ان کے لیے اڑھائی سو خیمہ لگوایا جائے۔اور اگر اڑھائی سو خیمہ لگوا دیا جائے تب بھی اول تو خیموں میں وہ آرام میسر نہیں آسکتا جو مکانات میں ہوتا ہے۔دوسرے اگر اڑھائی سو خیمہ خریدا جائے تو سوا لاکھ روپیہ میں آتا ہے۔ان خیموں کو اگر دوبارہ مکانات بننے پر بیچ بھی دیا جائے تب بھی ساٹھ ستر ہزار کا نقصان ہمیں برداشت کرنا پڑے گا۔اور اگر اڑھائی سو خیمہ کرایہ پر لیا جائے تو اٹھارہ روپیہ ماہوار پر ایک خیمہ ملتا ہے ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ 4500 روپیہ ماہوار صرف کرایہ پر صرف ہوگا۔اگر یہ خیمے ایک سال تک رکھے جائیں جب تک ہماری عمارتیں مکمل نہ ہو جائیں تو چون ہزار روپیہ سالانہ صرف کرایہ پر خرچ کی آ جائے گا اور پھر ان خیموں کے پہنچانے اور واپس لانے میں جو خرچ ہوگا وہ بھی چار چار پانچ پانچ ہی روپیہ فی خیمہ سے کم نہیں ہو سکتا۔ان امور کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم ان عارضی ہے عمارتوں کو جو جلسہ سالانہ کے لیے بنائی جا رہی ہیں بعد میں توڑیں نہیں بلکہ اسی طرح رہنے دیں تو ہمارا نہیں ہزار روپیہ جو ان عمارتوں پر خرچ ہو گا اس میں سے دس ہزار روپیہ تو یقیناً جلسہ سالانہ کے