خطبات محمود (جلد 30) — Page 407
$ 1949 407 خطبات محمود ہیں، تمہارے بچے ہیں جو باہر پاخانہ پھرتے ہیں تم ان کو کیوں نہیں سمجھا سکتے ؟ اگر تمہیں منع کرنے کی کی طاقت نہیں تو تم کیوں سب سر جوڑ کر نہیں بیٹھ جاتے اور اس معمہ کوحل کرنے کی کوشش کرتے ؟ آخر ساری دنیا صفائی کر رہی ہے، انگلینڈ کر رہا ہے، امریکہ کر رہا ہے، ہالینڈ کر رہا ہے، سوئٹزر لینڈ کر رہا ہے، جرمنی کر رہا ہے، فرانس کر رہا ہے تم کیوں نہیں کر سکتے ؟ صفائی کی عادت ڈالو ورنہ باہر سے آنے کی والے یہی سمجھیں گے کہ احمدیت کا اصل نمونہ گھروں سے باہر پاخانہ پھر نا ہے۔جو مخلص ہوں گے وہ تم کو دیکھ کر تمہارے کاموں کی نقل کریں گے اور اس طرح تم ساری دنیا میں گند پھیلانے کے مرتکب ہو گے اور جو مخلص نہیں انکے لیے تمہارا یہ نمونہ ٹھوکر کا موجب ہوگا۔صفائی نہایت اہم امر ہے۔چنانچہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی معمولی معمولی باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔مثلاً فرمایا کہ جمعہ کو مسجد میں نہا کر آؤ اور خوشبو لگا کر آؤ3 مگر اب کتنے لوگ ہیں جو خوشبو لگا کر مسجد میں آتے ہیں۔پھر فرمایا پیاز یا لہسن کھا کر مسجد میں نہ آؤ۔اس سے قیاس ہوا کہ کوئی بد بودار چیز کھا کر مسجد میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ فرشتوں کو تو پیاز اور لہسن کے ساتھ دشمنی نہیں ، دشمنی غلاظت سے ہے، بدھ سے ہے خواہ وہ کہیں سے آ جائے۔منہ کی ہی بو لے لو۔کتنے آدمی ہیں جو اس کا خیال رکھتے ہیں۔ابھی اگر میں امتحان مقرر کر دوں اور کسی سے کہوں کہ تمام لوگوں کے مونہوں کی کو سونگھو تو شاید سو میں سے ایک بھی شخص ایسا نہیں ہو گا جس کے منہ سے بد بو نہ آتی ہو۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض کا رکن جب میرے سامنے کا غذات پیش کرنے کے لیے آتے ہیں تو میں ان کے منہ کی و سے بیہوش ہونے لگتا ہوں۔پھر انہیں شوق ہوتا ہے کہ میرے قریب آ کر بات کریں حالانکہ بات فاصلہ سے بھی ہو سکتی ہے۔یورپین لوگوں میں قریب آ کر بات کرنے کی عادت نہیں ہوتی لیکن ہندوستانیوں میں یہ عادت کثرت سے پائی جاتی ہے مگر منہ کی بو تو ہندوستان سے خاص نہیں۔یورپ والے بھی اس کا خیال نہیں رکھتے۔وہ منہ کی صفائی میں بہت پیچھے ہیں۔مسلمان کھانا کھانے کے بعد کلی کرتا ہے لیکن اب گلی کرنا محض اس طرح کا رسمی رہ گیا ہے جس طرح ہند و صبح کو دریا پر نہانے کے لیے لیے جاتے ہیں۔ان کا نہانا محض رسمی ہوتا ہے۔یعنی پانی پیچھے اور گڑوی آگے۔اسی طرح کلی کرنا بھی ہے مسلمانوں میں ایک رسم کے طور پر رہ گیا ہے۔ان کا گلی کرنا صفائی کے لیے نہیں ہوتا۔اور جب گلی کرنا صفائی کے لیے نہیں ہوتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسوڑھوں میں زخم پڑ جاتے ہیں اور پھر منہ میں سڑاند