خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 393

1949ء 393 خطبات محمود وہ جذبہ، جوش اور ایثار بھی جس کے ساتھ اس کام کو شروع کیا گیا تھا غیر معمولی اور مومنوں کی شاندار روایات کے مطابق تھا اور وہ بے بسی اور کم مایگی جس کے ساتھ ہم نے یہ کام شرع کیا تھا وہ بھی مومنوں کی تاریخ کی ایک زندہ مثال تھی یعنی تھی تو وہ بے بسی تھی تو وہ بے کسی تھی تو وہ کم مایگی لیکن وہ اس بات کی شہادت دے رہی تھی کہ مومن ایسے ہی حالات سے گزرا کرتے ہیں ۔ وہ اس بات کی شہادت دے رہی تھی کہ گزشتہ انبیاء کی جماعتوں کو ایسی مشکلات سے ہی دو چار ہونا پڑا ہے۔ پس وہ بے بسی ، بے کسی اور کم مایگی مایگی بھی مومنوں کی جماعت سے ہماری جماعت کو ملاتی تھی۔ اور وہ جوش اور وہ جذبہ اور ایثار جو جماعت نے دکھایا وہ بھی ہمیں مومنوں کی جماعت سے ملاتا تھا۔ گویا 1934 ء کا نومبر ایک نشان تھا۔ سلسلہ احمدیہ کے مخالفوں کے لیے ، وہ ایک دلیل اور برہان تھا سو چنے اور غور کرنے والوں کے۔ لیے کہ یہ جماعت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یہ انہی قدموں پر چل رہی ہے جن پر گزشتہ انبیاء کی جماعتیں چلتی چلی آئی ہیں۔ تحریک جدید کے پہلے سال میں نے جماعت سے ستائیس ہزار روپیہ کی اپیل کی تھی۔ میں اب خود بھی نہیں مان سکتا کہ آیا ایسا ہو سکتا ہے۔ لیکن جیسا کہ خطبہ کے الفاظ سے ظاہر ہے وہ ستائیس ہزار روپیہ کی اپیل تین سال کے لیے تھی یعنی وہ ستائیس ہزار روپے نو نو ہزار روپیہ سالانہ کر کے تین سال کے لیے مانگے گئے تھے۔ اپنی ہوش کے وقت یعنی اب جبکہ میں سوچتا ہوں میں یہ خیال بھی نہیں کر سکتا اور نہ جماعت کے غور کرنے والے لوگ خیال کر سکتے ہیں کہ اس کے معنے کیا تھے ۔ کہا یہ گیا تھا کہ ہم ساری دنیا کو فتح کرنے کے لیے نکلنے لگے ہیں، کہا یہ گیا تھا کہ اب طاغوتی طاقتیں انتہائی زور کے ساتھ اسلام اور احمدیت پر حملہ آور ہوئی ہیں اس لیے ہمیں اب احمدیت کی حفاظت کے سامانوں کو کمال تک پہنچا دینا چاہیے۔ دعوی تو یہ کیا گیا تھا کہ ہم تمام دنیا کے حملوں کا دفاع کرنے کے لیے کھڑے ہو رہے ہیں اور یہ کہ ہم نے دنیا بھر میں احمدیت کی تبلیغ کو وسیع کرنا ہے۔ لیکن اس کام کے لیے مانگا گیا تھا صرف نو ہزار روپیہ سالانہ جو امریکہ جانے والے مبلغ کے ایک طرف کے کرایہ میں ہی خرچ ہو جاتا ہے۔ ابھی کچھ دن ہوئے خلیل احمد ناصر امریکہ گئے ہیں۔ غال غالبا ان کے پاکستان ن سے امریکہ تک کے کرایہ پر نو ہزار روپے لگے ہیں ۔ اسی طرح صوفی مطیع الرحمان صاحب جب امریکہ سے واپس آئے تھے تو اُن کے کرایہ پر دس بارہ ہزار روپیہ خرچ آ گیا تھا۔ پس صرف ایک جگہ پر جانے والے