خطبات محمود (جلد 30) — Page 367
* 1949 367 خطبات محمود نام یہ خط بھیجا تھا یہ بتانے کے لیے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے ساتھ یہ بدسلوکی کی ہے۔تم ہمارے پاس آؤ ہم تمہاری عزت کریں گے۔لیکن اُس مومن نے نہایت ہی خطرناک ابتلا کی صورت میں کہ ویسا ابتلا یقینی طور پر ہم پر نہیں آیا اور نہ ہی آنے کا آئندہ امکان ہے اُس خط کو بھٹی میں ڈال دیا اور پیغامبر سے کہا جاؤ! بادشاہ سے کہہ دو کہ میں نے اُس کے خط کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے اور یہی جواب ہر مومن کا ہونا چاہیے۔بہر حال چونکہ اس قسم کی باتوں سے لوگوں کوٹھوکر لگتی ہے اس لیے میں کہتا ہوں کہ اے جنازہ میں شامل نہ ہونے والو! تم ہوشیار ہو جاؤ اور اپنے ایمانوں کی فکر کرو کہ تم نے غلط رستہ اختیار کیا۔اور ے وہ شخص جو کہتا ہے کہ اس موقع پر غیروں تک نے طعنہ دیا تو بھی اپنے ایمان کی فکر کر کیونکہ تیرا ایمان ہے بھی کمزور ہے اور شیطان اُسے مٹانا چاہتا ہے۔بہر حال یہ ایک نقص ہے جس کی اصلاح کی طرف توجہ کرنا ہماری جماعت کا فرض ہے۔جماعت ایمان میں کامل اُسی وقت ہوسکتی ہے جب اُس کے افراد پورے اخلاص کے ساتھ کام کریں۔اگر تم نے ترقی کرنی ہے تو عمل کی متواتر نگرانی اور اصلاح تمہارا فرض ہے۔پس میں جہاں اُس خط لکھنے والے کو اس بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ جو وقعت تم نے غیر احمدیوں کے طعنہ دینے کو دی ہے وہ خطرناک ہے۔قریب کے مکان سے اٹھ کر طعنے دے دینا کوئی مشکل امر ہیں۔ایسی ہمدردی تو شیطان بھی کر سکتا ہے۔لیکن میرا یہ مطلب بھی نہیں کہ دوست ان باتوں کی کا خیال نہ رکھیں۔بڑے شہروں کی جماعتوں کو حلقے مقرر کر لینے چاہیں اور یہ انتظام کرنا چاہیے کہ فلاں دن فلاں حلقہ اس قسم کی ڈیوٹی ادا کرے گا اور فلاں دن فلاں محلہ یہ کام کرے گا۔اس طرح کام کرنے والوں پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا اور جو لوگ جماعت سے دور رہتے ہیں اُن کے جناز۔بھی خراب نہ ہوں گے۔علاوہ ازیں دوسرے لوگوں کو بھی ہمارے متعلق یہ احساس ہوگا کہ ان میں یا ہمی ہمدردی پائی جاتی ہے۔(الفضل 5 نومبر 1949ء) 1: وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ (البقرة: 229) 2 : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ (البقرة : 153) 3 : بخاری کتاب المغازی باب حدیث کعب بن مالک