خطبات محمود (جلد 30) — Page 28
$ 1949 828 28 خطبات محمود یعنی امام یہاں سٹیج پر کھڑا ہے اور مخاطب دوسری طرف متوجہ ہیں اس سے بھی دل ٹیڑھے ہونے کا خطرہ ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ اگر لوگوں کی قبلہ رخ کر کے صفیں بنوا دی گئیں تھیں تو امام کو بھی وہاں کھڑا کیا جاتا۔لیکن اگر امام کو خطبہ کے لیے اسٹیج پر کھڑا کیا تھا تو پھر مخاطبین کو بھی اس طرف منہ کر کے بیٹھنا چاہیے تھا اور اسی طرف متوجہ ہونا چاہیے تھا۔جب امام خطبہ پڑھ کر مصلی پر جاتا تو پھر صفیں سیدھی کر لی جاتیں۔اول تو لاؤڈ سپیکر کی کیا ضرورت تھی ؟ بھلا یہ کونسا بڑا مجمع ہے۔ہم نے تو کئی کئی ہزار کے مجمع میں تقریریں کی ہیں۔پس لاؤڈ سپیکر کے بغیر خطبہ ہوسکتا تھا۔اگر لاؤڈ سپیکر ہی لگانا تھا تو پھر جب امام نماز پڑھانے کے لیے جاتا تو لوگ کھڑے ہو جاتے اور صفیں سیدھی کر بہر حال ظاہر اور باطن دونوں کا خیال رکھنا چاہیے۔نہ صرف ظاہر کفایت کر سکتا ہے اور نہ صرف باطن سے کام چل سکتا ہے۔بلکہ بیک وقت دونوں کی اصلاح ضروری ہوتی ہے۔جس طرح صرف ظاہری نماز روزہ کا کوئی فائدہ نہیں اسی طرح صرف باطنی نماز اور روزہ کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔حضرت خلیفۃ امسیح الاول کے پاس ایک بڑھا دوائی لینے آیا کرتا تھا اور وہ متواتر چھ سات ماہ تک آتا رہا۔میں اور میر محمد اسحاق صاحب اُن دنوں حضرت خلیفة أسبح الاول سے پڑھا کرتے تھے۔ہمارے لیے یہ عجیب بات تھی کہ وہ ہمیشہ ہی دوائی لینے آجاتا ہے۔ایک دن ہم نے اُس سے پوچھا ھے کہ تم روز یہاں آتے ہو۔اگر تمہارا علاج ٹھیک نہیں ہو رہا تو پھر یہ علاج چھوڑ دو اور کسی اور طبیب سے علاج کراؤ۔حضرت خلیفہ اسیح الاول اُن دنوں عموماً زکام کے مریضوں کے لیے نسخہ جات میں کی شربت بنفشہ لکھا کرتے تھے۔اُس بڑھے نے کہا چونکہ مجھے یہاں شربت پینے کومل جاتا ہے اس لیے میں روز دوائی لینے آ جاتا ہوں۔حضرت خلیفہ المسیح الاول نے اُسے کئی دفعہ نماز پڑھنے کی نصیحت کی۔وہ کہا کرتا تھا کہ آپ کی نماز بھی کوئی نماز ہے؟ مسجد میں نماز پڑھنے گئے اور پھر سلام کے پھیر کر باہر آگئے۔جس چیز سے عشق ہو بھلا وہاں سے کوئی باہر بھی آیا کرتا ہے۔ہم نے تو جس دن کی سے اپنے پیر کی مریدی کی ہے ہم نماز پڑھ رہے ہیں اور اُس دن سے نماز توڑی ہی نہیں۔اور جب ہم نے نماز توڑی ہی نہیں تو پھر نئی نماز شروع کرنے کا سوال ہی کس طرح پیدا ہوسکتا ہے۔غرض یا درکھو کہ صرف باطن کوئی چیز نہیں جب تک ظاہر نہ ہو صحیح روحانی کیفیت پیدا نہیں