خطبات محمود (جلد 30) — Page 29
$1949 29 29 خطبات محمود ہوتی بلکہ اس کے نتیجہ میں بھی مداہنت پیدا ہوتی ہے اور کبھی انسان ریاء کی طرف چلا جاتا ہے۔جو لوگ قشر کی طرف چلے جاتے ہیں اُن میں صرف ریاء ہی ریاء پایا جاتا ہے۔مثلاً نماز پڑھنا کتنی اچھی بات ہے لیکن ہزاروں ہزار نمازی ایسے ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ لي الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ۔3 ہلاکت ہے ایسے ނ نمازیوں پر جو اپنی نماز سے غافل ہیں اور صرف ریاء کے طور پر نمازیں پڑھتے ہیں۔نماز۔در حقیقت انہیں کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔وہ لوگ اگر چہ نمازیں پڑھ رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے۔یہ کیوں؟ اس لیے کہ وہ صرف دکھاوے کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ظاہر میں وہ سجدہ کرتے ہیں، ظاہر میں وہ قیام کرتے ہیں، ظاہر میں وہ قعود کرتے ہیں کہ لیکن یہ ساری کی ساری باتیں دکھاوے کے لیے کرتے ہیں۔پھر بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہہ دیتے ہیں ہم باطن میں نمازیں پڑھتے ہیں۔وہ سمجھ لیتے ہیں کہ باطن تو کسی نے دیکھا نہیں ہے اور اس طرح وہ دوسروں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔مومن کو ظاہر اور باطن دونوں کے درست کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔کوئی نماز ، نماز نہیں جب تک اُس کے ساتھ دل شامل نہ ہو اور کوئی نماز، نماز نہیں جب تک اُس کے ساتھ جسم شامل نہ ہو۔دل کے ساتھ اگر ذکر الہی کر لو اور ظاہری طور پر نماز نہ پڑھو تو وہ کچھ بھی نہیں۔اسی طرح اگر ظاہری طور پر نماز پڑھی جائے لیکن دل اس میں شامل نہ ہو تو وہ بھی کچھ فائدہ نہیں دیتی۔حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کی ایک صاحبزادی تھیں۔ان کے بھائی سید عبدالغنی شاہ صاحب انہیں ہر جمعہ ملنے جایا کرتے تھے۔ایک دن انہوں نے اپنے بھائی سے کہا میں نے دیکھا ہے نماز میں جتنا لطف آتا ہے اُس سے کہیں زیادہ لطف ذکر الہی میں آتا ہے۔اس لیے میں ذکر الہی لمبا کرتی ہوں۔سید عبدالغنی شاہ صاحب نے جواب دیا یہ طریق اچھا معلوم نہیں ہوتا اس سے کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔جو ظاہر شریعت نے بتایا ہے وہی ضروری ہے۔ہوتے ہوتے انہوں ن نے ایک دن کہہ دیا کہ میں نے سنتیں پڑھنی بھی چھوڑ دی ہیں کیونکہ ذکرِ الہی میں زیادہ لطف آتا جی ہے اور میں وہ وقت بھی ذکر الہی میں خرچ کرتی ہوں۔ان کے بھائی نے کہا تم کسی دن فرض پڑھنا بھی چھوڑ دو گی۔آخر ایک دن جب وہ اپنی بہن کو ملنے گئے تو اُس نے کہا فرض نماز میں بھی وہ