خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 358

1949ء 358 خطبات محمود آتا ہے۔ ہم ہر وقت کہاں اُٹھ کر جائیں۔ میں نے کہا مجھے یہ بونا معلوم دیتا ہے، اس کی عمر ضرور پندرہ سولہ سال کی ہوگی اس لیے اس سے پردہ کرنا چاہیے۔ اس کے بعد ہم کشمیر گئے تو وہاں اس لڑکے کے ہم وطن لوگ جو اُس کی عمر سے واقف تھے کہنے لگے کہ یہ لڑکا تو پچیس چھبیس سال کا ہے یہ گھر میں کیوں جاتا ہے؟ میں بھی اس کی بڑی عمر کے متعلق تو شک میں تھا مگر اتنی عمر میرے بھی وہم و گمان میں نہ تھی۔ مگر بہر حال میں نے گھر کے لوگوں سے ذکر کیا جس پر اکثر نے شک کیا۔ مگر ایک دن کشمیری دوست اُس کے چھوٹے بھائی کو لے آئے جو قد و قامت میں بھی اچھا تھا اور شادی شدہ تھا اور اس کے دو بچے تھے۔ جب وہ بھائی آیا تو سب کو ماننا پڑا کہ یہ صاحبزادے جو بارہ تیرہ سال کے بن کر گھر میں آیا جایا کرتے تھے وہ دراصل ہونے تھے اور بے ریش و بروت 1 تھے۔ ورنہ عمر بڑی تھی۔ غالبا وہ اگر اب زندہ ہے تو اُس کی عمر کو پچاس سے زائد ہو گی مگر اب بھی وہ لڑکا ہی معلوم ہوتا ہوگا کیونکہ نہ اس کے داڑھی نکلی ہو گی اور نہ وہ بڑھا ہوگا ۔ غرض بعض لڑکے زنانہ سکول میں داخل کر لیے گئے اور بعض کو داخل نہیں کیا گیا۔ جنہیں داخل نہیں کیا گیا ان کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان سے بڑی عمر والوں کو داخل کر لیا گیا ہے انہیں داخل نہیں کیا گیا لیکن ہم کیا کر سکتے ہیں۔ جن کو استانیوں نے چھوٹی عمر کا سمجھا انہیں داخل کر لیا اور جنہیں بڑی عمر کا سمجھا انہیں داخل نہ کیا۔ اس کا کوئی علاج ہمارے پاس نہیں ۔ مگر اس فعل کا نتیجہ یہ ضرور نکلتا ہے کہ بہت سے لڑکے آوارہ پھر رہے ہیں۔ لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ربوہ میں یہ قانون بنایا گیا ہے کہ یہاں کسی آوارہ گرد کو نہیں رہنے دیا جائے گا۔ تو اس بات کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ ربوہ کی تمام موجودہ آبادی کو نکالنا پڑے گا۔ اس لیے نظارت تعلیم و تربیت کو چاہیے کہ وہ یہاں فوراً لوئر پرائمری تک کا ایک سکول کھول دے۔ اگر وہ کہیں کہ یہ سکول کس عمارت میں کھولا جائے ؟ تو یہی مسجد سکول ہے۔ ہم نے تیرہ سو سال تک مسجدوں میں ہی پڑھا ہے۔ اسی جگہ مدرسہ بنالو۔ لڑ کے امتحان چنیوٹ میں دے آیا کریں گے۔ اس سکول کے لیے دو مدرس خواہ وہ بڑھے ہی کیوں نہ ہوں رکھ لیے جائیں۔ پرانے وقتوں میں سکول میں استانی یا استاد ایک ہی ہوا کرتا تھا اور باقی اس کے خلیفے ہوا کرتے تھے۔ کلاس میں جو لڑکی یا لڑکا زیادہ ہوشیار ہوتا وہ استانی یا استاد اسے پڑھاتے ۔ پھر وہ آگے دوسرے ساتھیوں کو پڑھاتا۔ میں جب حضرت اماں جان کے ساتھ بچپن میں دہلی گیا تو مجھے ایک سکول میں