خطبات محمود (جلد 30) — Page 359
$ 1949 359 خطبات محمود داخل کیا گیا تھا۔وہ ایک استانی کا اسکول تھا۔استانی ایک تھی لڑکیاں لڑکے زیادہ تھے اور کلاسیں بھی ایک سے زیادہ تھیں۔وہ بھی ایسا ہی کیا کرتی تھی۔ایک دو ہوشیار طالبعلموں کو پڑھا دیتیں اور پھر انہیں ہے کلاس میں اپنا خلیفہ مقرر کر دیتیں۔دوسروں کو سبق دینے سے بھی علم بڑھتا ہے۔اگر یہاں لڑکوں کا اسکول کھل جائے گا تو وہ آوارگی سے بچ جائیں گے۔انہیں کچھ وقت یہاں بیٹھنا پڑے گا۔پھر سبق بھی یاد کرنا پڑے گا۔اس طرح وہ بریکار نہیں رہیں گے۔پس چار جماعتوں تک ایک اسکول فوراً بنالیا جائے اور اگر استادمل جائیں تو پانچویں جماعت کے لڑکے بھی یہیں پڑھیں ورنہ بڑی عمر کے بچے چنیوٹ بھی جاسکتے ہیں۔اگر مستقل تعمیر کی جلد ا جازت مل جائے تو ہماری کوشش یہی ہوگی کہ ہائی سکول کو جلد یہاں نی منتقل کر دیا جائے مگر لڑکوں کی جان زیادہ قیمتی ہے۔سکول منتقل ہونے میں بہر حال کچھ دیر لگے گی۔اس کے لیے پانچ چھ ماہ بھی ضائع نہیں کیے جاسکتے۔پس خواہ استاد بڑھے ہی میں فوراً ایک دو استاد مقرر کر کے سکول شروع کر دیا جائے۔وہ کم از کم لڑکوں کو یہاں بٹھائے تو رکھیں گے۔دفتر کے کلرک یا دوسرے کارکن بھی کچھ وقت نکال کر لڑکوں کو سبق دے جایا کریں۔استادوں سے غرض یہ ہوگی کہ لڑکے یہاں بیٹھے رہیں۔بیشک ان میں قابلیت نہ ہو کوئی حرج نہیں۔یہ دونوں تجویزیں مقامی جماعت کے لیے ہیں جو میں نے اس وقت آپ لوگوں کے سامنے رکھی ہیں۔ان میں سے ایک پر فوری عمل ہونا چاہیے اور دوسری کے متعلق اپنے بھائیوں کو سمجھانا چاہیے کہ ابھی کچھ دن اور نصیحت اور تعاون کی ضرورت ہے۔(الفضل 27 اكتوبر 1949ء) 1 : بے ریش و بُروت: بغیر داڑھی مونچھ ( اردو لغت تاریخی اصول پر۔جلد 10 صفحہ 986 مطبوعہ کراچی 1990ء)