خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 355

* 1949 355 خطبات محمود پر خرچ کیا ہے۔رہائشی مکانات انجمن کی عمارتوں کے علاوہ ہیں۔گویا ڈیڑھ لاکھ روپیہ ان عارضی مکانات پر لگ گیا۔پھر یہ مکانات ریلوے کے احاطہ میں بنائے گئے ہیں۔اگر یہ مکانات ریلوے کے کی احاطہ میں نہ بنائے جاتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ آٹھ دس سال تک غرباء ان میں گزارہ کر لیں گے۔اس کے بعد وہ اور مکان بنالیں گے لیکن یہاں یہ بات بھی نہیں۔جس دن اسٹیشن بنایہ مکانات گرانے پڑیں گے۔غرض ان مکانات کے لیے جگہ بھی غلط پچنی گئی ہے۔اس جگہ عارضی مکانات بنانے میں منتظمین نے یہ فائدہ سوچا تھا کہ جو گڑھے پڑیں گے یہاں پڑیں گے لیکن جب یہ جگہ اسٹیشن کے لیے دی جائے گی تو گڑھے بھرنے پڑیں گے ورنہ گورنمنٹ قانون کے زور سے ہمیں اس پر مجبور کرے گی۔پس وہ ای بات جس کو فائدہ مند سمجھا گیا نقصان دہ ثابت ہوئی۔اگر یہ مکانات کسی دوسری جگہ بنتے تو دس بارہ سال ان سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا تھا لیکن اب سال ڈیڑھ سال میں یہ سب گرانے پڑیں گے۔ان حالات میں مزید یکصد عارضی مکانات کے اخراجات کا بوجھ اُٹھانا یقیناً خلاف عقل ہے۔اگر پہلے مکان گرائے جاتے اور ان پر جو روپیہ خرچ ہوا ہے وہ واپس مل جاتا تو میں کہتا ایسے مکانات بھی گرا دوا لیکن چونکہ روپیہ واپس نہیں ملے گا اس لیے وہ مکانات اب نہیں گرائے جا سکتے۔اس لیے فیصلہ یہ کیا گیا تاجی ہے کہ آئندہ عارضی مکانات بنانے بند کیے جائیں۔جب مستقل دفاتر بنے شروع ہو جائیں گے تو دفاتر اُدھر چلے جائیں گے اور یہ عمارتیں رہائش کے لیے استعمال کر لی جائیں گی اور اگر مناسب سمجھا گیا تو لوگ دفاتر کی مستقل عمارتوں میں بس جائیں گے۔اسی طرح اور بھی کئی مکانات ہوں گے جو استعمال میں آسکیں گے۔مثلاً میری تجویز یہ ہے کہ میں اپنا ذاتی مکان جلد بنوالوں اور جب میرا اپنا مکان بن جائے گا تو موجودہ مکان خالی ہو جائے گا۔جب مستقل تعمیر شروع کرنے کی اجازت مل گئی اور اینٹیں کافی تعداد میں مل گئیں تو بہت جلد کچھ مستقل عمارتیں بن جائیں گی جن سے فائدہ اٹھایا جاسکے گا۔کہا جاتا ہے کہ اب قریباً پچاس ہزار اینٹ روزانہ تیار ہوتی ہے۔مجھے تو اس کے آثار نظر نہیں آتے لیکن اگر پچاس ہزار اینٹیں روزانہ بنتی ہوں تو مکانات بہت جلد تیار کیے جاسکتے ہیں۔پس ایک تو میں دوستوں کو اس حقیقت سے واقف کرانا چاہتا ہوں کہ مزید عارضی مکانات کے بنانے کی منظوری دینے کے لیے میں تیار نہیں۔موجودہ مکانات سے جتنا فائدہ اُٹھایا جائے اُٹھایا جائے۔یا احمد نگر اور چنیوٹ میں کارکنوں کو ٹھہرایا جائے۔موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہو۔