خطبات محمود (جلد 30) — Page 341
* 1949 341 خطبات محمود نے وہاں خدا تعالیٰ کو دیکھا تھا اُس سے بہت زیادہ شان اور جلال کے ساتھ میں نے خدا تعالیٰ کو اب دیکھا ہے۔اور میں سمجھتا ہوں ہر مومن جو سوچنے کا عادی ہے، جو دماغی تعیش کی وجہ سے بعض صداقتوں کی کو قبول کرنے اور بعض کو رڈ کرنے کا عادی نہیں اُس کا ایمان بھی یقیناً بڑھا ہو گا۔لیکن فرض کرو اس حادثہ کی وجہ سے کسی کو ٹھو کرلگتی ہے تو پھر مومنوں کا یہ کام نہیں کہ وہ خاموشی کے ساتھ بیٹھ رہیں بلکہ انہیں اُس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔آخر دنیا میں ہر چیز کی ایک ضد پائی جاتی ہے اور یہ سلسلہ ابتدائے آفرینش سے اب تک قائم ہے۔تاریکی ہو جائے تو اُس کو دور کرنے کے لیے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے اور جب تاریکی بہت زیادہ زور پکڑے تو روشنی کو بھی زیادہ زور پکڑنے کی ضرورت ہوتی ہے۔جب گرمیاں آتی ہیں تو لوگ ہتھیار نہیں ڈال دیتے بلکہ ٹھنڈک کے سامان مہیا کرتے ہیں۔معمولی گرمی ہو تو ای پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہیں اور زیادہ گرمی ہو تو کھڑکیوں اور دروازوں کے آگے کپڑے لگا لیتے ہیں۔اور زیادہ گرمی ہو تو خس کی ٹٹیاں لگا لیتے ہیں۔زیادہ اچھی حالت ہو تو بعض لوگ بجلی کے پیچھے لگوا لیتے ہیں۔اور زیادہ اچھی حالت ہو تو لوگ پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں۔غرض وہ آخر وقت تک اس کا مقابلہ کرتے چلے جاتے ہیں۔یہ نہیں ہوتا کہ گرمی آئے تو وہ شور مچانے لگ جائیں کہ مر گئے مر گئے اور اُس کے تدارک کی کوئی صورت نہ کریں۔اس طرح سردیاں آئیں تو یہ نہیں ہوتا کہ لوگ اُس کے سامنے ہتھیار ڈال دیں بلکہ جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل اور سمجھ سے حصہ دیا ہوا ہوتا ہے وہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔یہی کیفیت کفر اور ایمان کی بھی ہے۔جب دنیا میں کفر پھیلتا ہے، بے ایمانی ترقی کرتی ہے، بد اعتقادی کا دور دورہ ہو جاتا ہے تو اُس وقت مومن اُس کفر اور بے دینی کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر میں چُپ رہا تو یہ ایمان کے خلاف ہو گا۔ایمان کا اعلیٰ مقام یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے ہاتھ سے بدی کو دور کر دے اور ادنیٰ مقام یہ ہوتا ہے کہ دل میں بُرا منائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ادنی ترین ایمان کی علامت یہ ہے کہ تم کوئی بُری بات دیکھو تو دل میں اُس پر بُرا مناؤ4 مگر دنیا میں وہ کون انسان ہے جو یہ پسند کرے گا کہ اُسے تھرڈ کلاس مومن شمار کیا لی جائے۔ہر شخص یہی خواہش رکھتا ہے اور یہی رکھنی چاہیے کہ اُسے ایمان کا اعلیٰ مقام نصیب ہو۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایمان کا اعلیٰ مقام یہ ہے کہ تم کوئی بُری بات دیکھو تو اُسے اپنے ہاتھ سے روکو۔اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے تو زبان سے روکو۔اگر زبان سے بھی روکنے