خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 321

1949ء 321 خطبات محمود راہ میں بھوکے رہ کر حاصل ہو بجائے اس کے ہم پیٹ بھر کر خدا تعالیٰ کے راستہ سے الگ ہو جائیں۔ اگر ہم اس کی راہ میں بھوکے مر جائیں تو خدا تعالیٰ کے سامنے ہم کتنی شان سے پیش ہوں گے کتنے دعوی کے ساتھ پیش ہوں گے کہ ہم نے تیرے لیے بھوکے رہ کر اپنی جان دے دی۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ زندگی وقف کرنے والے نو جوانوں کے جدید حصہ میں اب وہ تو کل نہیں جو ایک سچے مومن کے اندر ہونا چاہیے۔ حالانکہ اگر سلسلہ ان کو ایک پیسہ بھی نہ دے اور وہ تو کل سے کام لیں تو یقیناً زمین ان کے لیے اگلے گی اور آسمان ان کے لیے اپنی نعمتیں برسائے گا۔ میں نے کئی دفعہ سنایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب زلزلہ کے الہامات کی وجہ سے باغ میں تشریف لے گئے تو ایک دن آپ نے گھر میں حضرت اماں جان سے باتیں کرتے ہوئے فرمایا کہ روپیہ بالکل نہیں رہا۔ ہمارا خیال ہے کہ بعض دوستوں سے قرض لے لیا جائے ۔ مگر پھر آپ نے فرمایا کہ یہ بھی تو کل کے خلاف ہے۔ اس کے بعد آپ مسجد میں گئے اور نماز ہوئی ۔ جب واپس آئے تو آپ نے ایک پوٹلی نکالی اور اس کو کھولا اور پھر اسے دیکھ کر فرمانے لگے ( میں بھی اُس وقت پاس ہی کھڑا تھا کہ جب میں نماز کے لیے باہر گیا تو ایک غریب آدمی جس کے کپڑے پھٹے پرانے تھے اُس نے یہ پوٹلی ہماری جیب میں ڈال دی۔ اور چونکہ یہ بوجھل تھی میں نے سمجھا کہ اس میں پیسے وغیرہ ہوں گے مگر جب گھر آکر میں نے اُس پوٹلی کو کھولا تو اُس میں سے روپے اور نوٹ نکلے ۔ پھر آپ نے ان روپوں اور نوٹوں کو گنا تو وہ چار پانچ سو کے قریب نکلے ۔ آپ نے فرمایا اگر ہم قرض لیتے تو یہ تو کل کے خلاف ہوتا۔ ادھر ہمیں ضرورت پیش آئی اور اُدھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے ذریعہ سے روپیہ بہم پہنچا دیا جس کا ہمیں وہم اور خیال بھی نہیں تھا۔ میں نے خود اپنی ذات میں خصوصاً قادیان سے نکلنے کے بعد خدا تعالیٰ کے ایسے ہی نشانات دیکھے ہیں ایسے انسان جن کے متعلق میں سمجھتا تھا کہ وہ اس بات کے محتاج ہیں کہ میں اُن کی مدد کروں وہ اصرار کر کے مجھے ایسی رقوم دے گئے کہ میرے وہم میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ وہ اتنا روپیہ دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ غرض اللہ تعالیٰ پر تو کل ہی انسان کو حقیقی زندگی دیتا ہے اور تو کل ہی ہر قسم کی برکات کا انسان کو مستحق بناتا ہے۔ جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے مکہ بنوایا