خطبات محمود (جلد 30) — Page 320
$ 1949 320 خطبات محمود رہا ہے اب بھی دے گا۔چنانچہ میں نے اپنے خاندان کے سب افراد سے کہا کہ تم فکر مت کرو، سب کا کھانا اکٹھا تیار ہوا کرے گا اور ایسا ہی ہوا۔اپنے خاندان کے تمام افراد کے کھانے کا انتظام میں نے کیا اور برابر کئی ماہ تک اس بوجھ کو اٹھایا۔آخر کسی نے چھ ماہ کے بعد اور کسی نے نو ماہ کے بعد اپنے اپنے کی کھانے کا الگ انتظام کیا۔اس عرصہ میں وہ لوگ جن کا روپیہ میرے پاس امانا پڑا ہوا تھا وہ بھی اپنا تھی روپیہ لے گئے اور ہمیں بھی خدا نے اس طرح دیا کہ ہمیں کبھی محسوس نہیں ہوا کہ ہم کوئی اور تدبیر ایسی ہے اختیار کریں جس سے ہماری روٹی کا انتظام ہو۔میں جب تک لا ہور نہیں پہنچا ہمارے خاندان کے لیے لنگر سے کھانا آتا رہا تھا مگر جہاں تک مجھے علم ہے اس کی بھی لنگر کو قیمت ادا کر دی گئی تھی۔اور اس کے بعد اپنے خاندان کے دوسو افراد کا بوجھ اُٹھایا حالانکہ اُس وقت ماہوار خرچ کھانے کا کئی ہزار روپیہ تھا۔غرض خدا دیتا چلا گیا اور میں خرچ کرتا چلا گیا۔اگر میں خدا تعالیٰ سے ٹھیکہ کرنے بیٹھ جاتا اور اُس سے کہتا کہ پہلے میری تنخواہ مقرر کی جائے پھر میں کام کروں گا اور خدا تعالیٰ خواب یا الہام کے ذریعہ پوچھتا کہ بتا تجھے کتنا روپیہ چاہیے؟ تو اُس زمانہ کے لحاظ سے جب میری ایک بیوی اور دو بچے تھے میں زیادہ کی سے زیادہ یہی کہہ سکتا تھا کہ سو روپیہ بہت ہو گا۔مجھے ایک سو روپیہ ماہوار دے دیا جائے۔لیکن اگر میں ایسا کرتا تو آج کیا کرتا جب کہ میری چار بیویاں اور بائیں بچے ہیں اور بہت سے رشتہ دار ایسے ہیں جو اس بات کے محتاج ہیں کہ میں اُن کی مدد کروں۔میرے وہ رشتہ دار جن کا اب بھی میرے سر پر بوجھ ہے ساٹھ ستر کے قریب ہیں۔اگر سو روپیہ میں اپنے لیے مانگتا تو ان کو ڈیڑھ روپیہ بھی نہیں آ سکتا تھا۔پھر میں روٹی کہاں سے کھاتا، کپڑے کہاں سے بنواتا، اپنے بچوں کو تعلیم کس طرح دلاتا اور اپنے خاندان کے افراد کی پرورش کس طرح کرتا۔بہر حال میں نے خدا تعالیٰ سے یہ کبھی سوال نہیں کیا کہ تو مجھے کیا دے گا اور خدا تعالیٰ نے بھی میرے ساتھ کبھی سودا نہیں کیا۔میں نے خدا تعالیٰ سے یہی کہا کہ مجھے ملے نہ ملے میں تیرا بندہ ہوں اور میرا کام یہی ہے کہ میں تیرے دین کی خدمت کروں۔اور اس کے بعد خدا تعالیٰ نے بھی یہی کیا کہ یہ سوال نہیں کہ تیری لیاقت کیا ہے؟ یہ سوال نہیں کہ تیری قابلیت کیا ہے؟ ہم بادشاہ ہیں اور ہم اپنے بادشاہ ہونے کے لحاظ سے تجھے اپنی نعمتوں سے ہمیشہ متمتع کرتے رہیں گے۔غرض خدا سے سچا تعلق رکھنے والا انسان ہمیشہ آرام میں رہتا ہے۔لیکن فرض کرو وہ یہی فیصلہ کر دیتا ہے کہ ہم بھوکے مر جائیں تو کم از کم مجھے تو وہ موت نہایت شاندار معلوم ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کی