خطبات محمود (جلد 30) — Page 319
1949ء 319 خطبات محمود اور لحاظ سے تو کام کا اہل ہوتا ہے مگر اُس کی صحت اور حالات تقاضا کرتے ہیں کہ اُسے روپیہ دیا جائے یا اُس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے وہ دنیا کا امتحان لینا چاہتا ہے۔ بہر حال اس کا سلوک ہے یہی کہ کسی کو وہ بے انتہاد دیتا چلا جاتا ہے اور کسی کو اپنی مصلحتوں کے ماتحت مشکلات میں مبتلا رکھتا ہے۔ حضرت خلیفہ اول ہمیشہ دعوای فرمایا کرتے تھے کہ مجھے خدا تعالیٰ اپنے پاس سے رزق دیتا ہے۔ ہمارے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب کو سلسلہ کی خدمت کا شوق تھا اور وہ چندہ کے لیے باہر چلے جاتے تھے۔ اسی چندہ سے انہوں نے دار الضعفاء بنوایا، مسجد نور بنوائی ، اسی طرح اور تین چار کام کیے۔ وہ باہر سے چندہ لا لا کر یہ عمار لا کر یہ عمارتیں تعمیر کراتے تھے۔ اُن کے بڑھاپے کی عمر میں ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے اُن کو مخاطب کر کے فرمایا میر صاحب ! ہمیں خدا نے ایک نسخہ بتایا ہوا ہے کہ جس کے نتیجہ میں ہمیں خود بخود رو پیدل جاتا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو بھی وہ نسخہ بتا دوں ۔ اس کے بعد آپ کو باہر چندہ کے لیے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ میر صاحب مرحوم نے جواب دیا کہ آپ جو بتائیں گے اُس کے نتیجہ میں مجھے جو کچھ ملا اُسے دیکھ کر میرے دل میں یہی خیال پیدا ہو گا کہ آپ کے نسخہ کی وجہ سے یہ روپیہ ملا ہے مگر اب تو یہ مزا آتا ہے کہ خدا خود اپنے پاس سے روپیہ دے رہا ہے یہ مزا آپ کے نسخہ سے جاتا رہے گا۔ حضرت خلیفہ اول ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے ساری عمر میں صرف ایک شخص کے آگے اس نسخہ کو پیش کیا اور اس نے بھی لینے سے انکار کر دیا۔ حضرت خلیفہ اول نے بارہا میرے سامنے بھی یہ بات بیان کی اور ایسے رنگ میں بیان کی کہ گویا آپ چاہتے تھے کہ میں اس کے متعلق آپ سے سوال کروں۔ میں نے آپ سے کبھی نہیں پوچھا اور نہ میں نے کبھی ایسے علم کے پوچھنے کی ضرورت مرورت سمجھی۔ بھی۔ اور واقعہ یہ ہے کہ حضرت خلیفہ اول کے پاس جتنا روپیہ آتا تھا اُس سے بہت زیادہ روپیہ خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔ اس کی وجہ اصل تو فضل الہی ہے اور ظاہری یہ کہ میں نے خدا تعالیٰ سے کبھی ٹھیکہ نہیں کیا۔ ہم جب قادیان سے آئے اُس وقت ہمارے خاندان ، خاندان کی تمام جائدادیں پیچھے رہ رہ گئیں تھیں اور ہمارے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا۔ بعض دوستوں کی امانتوں کا صرف نو سو روپیہ میرے پاس تھا۔ ادھر ہمارے سارے خاندان کے دوسو کے قریب افراد تھے اور ان میں سے کسی کے پاس روپیہ نہیں تھا۔ اس حالت میں بھی میں نے یہ نہیں کیا کہ لنگر سے کھانا منگوانا شروع کر دوں بلکہ میں نے سمجھا کہ وہ خدا جو پہلے دیتا