خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 298

* 1949 298 خطبات محمود ان سے پوچھ لینا چاہتا ہوں۔عکرمہ واپس آئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا دو۔میں یہ بات خود ان کے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔بیوی ساتھ لے کر انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔عکرمہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ایک بات ہے جو میں دریافت کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میری بیوی کہتی ہے آپ نے فرمایا ہے کہ میں آپ کے زیر سایہ مکہ میں رہ سکتا ہوں۔کیا یہ درست ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہاں۔عکرمہ نے کہا ایک اور بات بھی ہے۔وہ کہتی ہے کہ میں باوجود دشمن ہونے کے اور اسلام نہ لانے کے بھی یہاں رہ سکتا ہوں۔آپ نے فرمایا ہاں۔بظاہر تو یہ ایک معمولی بات ہے، یہ ایک دنیوی معاملہ ہے۔غالب شخص مغلوب سے یہ کہتا ہے کہ میں تمہارا قصور معاف کرتا ہوں اور اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے ملک میں رہنے کی تمہیں اجازت دیتا ہوں۔لیکن اگر سیاق کو دیکھا جائے ، جب ان کی پچھلی تاریخ کو دیکھا جائے اور اُس سلوک کو سامنے رکھا جائے جو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ یہ انسانی فعل نہیں۔عکرمہ یہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ اُن سے ایسا سلوک ہوسکتا ہے۔انہوں نے جب یہ بات سنی تو یقین کر لیا کہ یہ سلوک سوائے رسول کے کوئی اور شخص نہیں کر سکتا۔جو نہی یہ فقرہ آپ کے منہ سے نکلا کہ مکرمہ اتم با وجود دشمن ہونے کے مکہ میں رہ سکتے ہو تو ہے عکرمہ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔آپ نے فرمایا عکرمہ! ہم تمہیں معاف ہی نہیں کرتے بلکہ تم اپنے لیے جو کچھ مانگو آج تمہیں دیں گے۔اس پر وہی دنیا دار عکرمہ جو مکہ میں آپ کے زیر سایہ رہائش کو بھی پسند نہیں کرتا تھا وہ یہ خیال نہیں کرتا کہ آپ نے دوسروں کو لاکھوں کے اموال بخش دیئے ہیں۔میں بھی کچھ مانگ لوں تا آرام کے ساتھ زندگی بسر کر سکوں بلکہ ایک منٹ کے اندراندر ایمان نے اُس کے اندر ایسا تغیر پیدا کر دیا کہ جب آپ نے کہا عکرمہ ! تم اپنے لیے جو کچھ مانگو ہم آج دیں گے تو اس نے کہا یا رسول اللہ ! اس سے بڑھ کر اور کونسی چیز آپ مجھے دے سکتے ہیں ہے کہ مجھے ہدایت مل گئی۔آپ میرے لیے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ میرے تمام گناہ معاف کر دے۔5 اُس گھڑی عکرمہ ابو جہل کا بیٹا نہیں رہا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونتر انکھترا کہا کرتا تھا بلکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا بن گیا تھا۔اُس وقت ابو جہل اونتر انکھتر ا تھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولا د موجود تھی۔ماؤں نے بچے جنے ، باپوں کے ہاں نرینہ اولاد پیدا ہوئی