خطبات محمود (جلد 30) — Page 294
$ 1949 294 خطبات محمود اُٹھانا پڑتا ہے لیکن عملی طور پر تمام مذاہب عموماً ورثہ پر ہی اپنی بنیا در رکھتے ہیں مثلاً آجکل کا ایک مسلمان اس بات کو کافی سمجھتا ہے کہ وہ ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا اور اپنے عقیدہ کے مطابق ایک۔مذہب کا پیروکار کہلایا۔ایک ہندو اس بات کو کافی سمجھتا ہے کہ وہ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوا اورا۔عقیدہ کے مطابق ایک سچے مذہب کا پیروکار کہلایا۔ایک عیسائی ، ایک یہودی یا ایک زرتشتی اس بات پر بالکل مطمئن ہے کہ وہ ایک عیسائی، یہودی یا زرتشتی گھرانے میں پیدا ہوا اور اپنے عقیدہ کے مطابق ایک بچے مذہب کا پیرو کہلایا۔لیکن پیدائش خدا تعالیٰ کے فضل کا وارث نہیں بنایا کرتی۔خدا تعالیٰ کے فضل کا وارث بننے کے لیے ضروری ہے کہ عملی طور پر اس کے حصول کے لیے کوشش کی جائے۔ایک ای چھوٹی سے چھوٹی اور ادنیٰ سے ادنی ہستی کو بھی اُس وقت تک تسلیم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اس میں کسی قسم کی حرکت نہیں پائی جاتی۔انسانی زندگی ایک ادنی کیڑے سے شروع ہوئی ہے لیکن ڈاکٹر اس کے متعلق بھی یہ اصول پیش کرتے ہیں کہ جب تک اس میں کوئی حرکت نہ ہو وہ انسانی پیدائش کے قابل نہیں ہوسکتا۔یہ کیڑا کتنا حقیر ہے، یہ کیڑا کتنا چھوٹا ہے، وہ عام نظروں سے چھپا رہتا ہے بلکہ تیز سے تیز نظر والا انسان بھی اسے نہیں دیکھ سکتا۔کئی سو طاقت والی خوردبین سے وہ دیکھا جاتا ہے وہ بھی اگر حرکت نہ کرے تو سمجھا جاتا ہے کہ وہ بیکار ہے۔پس جب ایک ادنیٰ سے ادنی چیز بھی حرکت نہیں کرتی ہے تو اسے بریکار سمجھا جاتا ہے تو پھر انسان کے اندر اگر زندگی کے لیے کشمکش نہیں پائی جاتی ، اس میں اگر منزل مقصود تک پہنچنے کی جدوجہد نہیں پائی جاتی اور اگر اس جدوجہد کا صحیح نتیجہ نہیں نکلتا تو پھر کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ وہ کامیاب ہے گو وہ کامیاب ہونے والا ہے۔وو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم نے دنیا کی ہر چیز کو جوڑا بنایا ہے۔3 خدا تعالیٰ نے ہر چیز فرمایا ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ میں نے انسانوں کو جوڑا بنایا ہے، میں نے حیوانوں کو جوڑا بنایا ای ہے بلکہ فرمایا ہے کہ میں نے ہر چیز کو جوڑا بنایا ہے۔اور ہر چیز کو جوڑا بنانے کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کے سوا ہر چیز کا جوڑا ہے۔کیونکہ کہتا ہے میں نے ہر چیز کو جوڑا بنایا ہے۔اس لیے وہ تو ہر چیز میں کی شامل نہیں ہوسکتا وہ تو بنانے والا ہے اور جوڑا اُس چیز کا ہے جو بنائی گئی ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے ہر چیز کو جوڑا بنایا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ انسانوں، فرشتوں، حیوانوں ، جمادات اور نباتات وغیرہ میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو بغیر اپنے جوڑے کے کوئی نتیجہ پیدا کرتی ہو۔اس طرح روح اور اعمال بھی