خطبات محمود (جلد 30) — Page 257
خطبات محمود 257 * 1949 اور اپنی ذات کے لیے دکھ اور مصائب اُٹھائے۔مگر میں پہلا شخص ہوں جس نے رب العلمین خدا کے لیے دکھ اور مصائب اُٹھائے ہیں۔میرا تکلیف اُٹھا نا کسی خاص قوم کے لیے نہیں تھا، میرا تکلیف اُٹھانا ہے کسی خاص ملک کے لیے نہیں تھا۔میری تکالیف اور دکھ سب دنیا کے لیے ہیں۔اور جیسا کہ میں اپنے کی خطبات میں بتا چکا ہوں اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ساتھ ایسی قیود لگادی گئی ہیں جو دوسرے نبیوں کی قربانیوں میں بھی نہیں پائی جاتیں گجا یہ کہ دوسرے انسانوں کی قربانیوں میں وہ قیود پائی جائیں۔حضرت نوح علیہ السلام دنیا میں آئے اور انہوں نے تکالیف برداشت کیں اور دکھ اُٹھائے مگر وہ تکالیف اور دکھ انہوں نے اپنی قوم کے لیے اٹھائے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بڑی بڑی قربانیاں کیں مگر انہوں نے بھی وہ قربانیاں اپنی قوم کے لیے کیں۔حضرت کی موسی علیہ السلام نے بھی قربانیاں کیں مگر انہوں نے بھی وہ قربانیاں اپنی قوم کے لیے ہی کیں۔گزشتہ انبیاء کو بنی نوع انسان کے مجموعی وجود کا احساس ہی نہیں تھا۔بائبل کو دیکھ لو وہاں بار بار یہی آتا ہے اے اسرائیل کے خدا! وہاں رب العلمین کا خیال نہیں پایا جاتا۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ خدا تعالیٰ کو رب العلمین نہیں مانتے تھے۔بنی اسرائیل بھی خدا تعالیٰ کو رب العلمین مانتے تھے لیکن رب العلمین کا جذبہ رت بنی اسرائیل کے جذبہ کے ماتحت تھا۔تو رات یہ نہیں کہتی کہ بنی اسرائیل کے علاوہ باقی لوگ کی خدا تعالیٰ کی مخلوق نہیں۔وہ دوسرے لوگوں کو بھی خدا تعالیٰ کی مخلوق ہی سمجھتی ہے لیکن وہ یہ بھی بجھتی ہے کہ بنی اسرائیل دوسری مخلوق سے زیادہ شان والے ہیں۔چنانچہ گو بائیل خدا تعالیٰ کو بنی اسرائیل کے علاوہ دوسری مخلوق کا بھی خدا خیال کرتی ہے مگر سوتیلے اور سگے کا فرق ضرور پایا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ پہلے شخص تھے جو ایسے ملک میں پیدا ہوئے جس کے تعلقات باقی دنیا سے نہیں تھے۔عرب باقی ساری دنیا سے کٹا ہوا تھا۔عرب کے رہنے والے باقی دنیا کے متعلق کوئی قطعی اور یقینی خیال نہیں رکھتے تھے۔ان کے پاس کوئی تاریخ نہیں تھی۔عرب کی دنیا عرب تک ہی ہے محدود تھی۔اگر وہ دوسری قوموں کے متعلق کوئی خیال رکھتے بھی تھے تو وہ صرف منافرت کا خیال تھا۔عربوں میں تکبر اتنا پایا جاتا تھا کہ وہ سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں کوئی ہے ہی نہیں وہ صرف سیاسی برتری ہے کو اپنے سے بالا سمجھتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ رومن اور ایرانی حکومتوں کے برابر اور کوئی حکومت نہیں۔گویا سیاسی نقطہ نگاہ سے تو وہ عرب کو حقیر خیال کرتے تھے اور قومی نقطہ نگاہ سے وہ باقی دنیا کو عربی